"FBC" (space) message & send to 7575

کشمیری طلبا:حریت وعزیمت کا استعارہ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ کی موجودگی میں ایک شخص نے کہا کہ ''ظالم خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے‘ کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑتا‘‘۔ اس پر حضرت ابو ہریرہ ؓ نے جواب دیا ''تم غلط کہتے ہو‘ظالم کے ظلم کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے ؛حتیٰ کہ درخت اور نباتات بھی ظلم کے اثر سے محفوظ نہیں رہتے اور پرندے بھی انسانی معاشرے میں پھیلے ہوئے ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے اپنے گھونسلوں میں لاغر ہوکر مرتے ہیں‘ پھر جب کو ئی ناہنجار مرتا ہے تو درخت کہتے ہیں ؛ شکر ہے کہ یہ موذی دنیا سے چلا گیا‘‘۔اگر دیکھا جائے ‘تو ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کے حوالے سے واضح شرعی احکامات موجود ہیں‘ جن کے مطالعہ کے بعد کسی'' اگر مگر‘‘یا ''چونکہ چنانچہ‘‘ کی ضرورت نہیں رہتی‘مگر کیا کریں کہ ارباب ِاختیار مفادات کو حکمت کا نام دیکر اس قدر پستی میں گر جاتے ہیں کہ شہ رگ کٹنے کا ماتم بھی ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔ظالم اور مظلوم کی یہ لڑائی نئی نہیں ‘یہ جنگ تو ہابیل و قابیل کے وقت سے جاری ہے ۔ عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ ایسی جنگ میں انفرادی حیثیت میں لوگ ہوں یا اجتماعی حیثیت میں ریاستیں ‘ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہمیشہ ظالم کا ہی ساتھ دیتی نظر آتی ہیں ۔ اس کی واضح مثال مقبوضہ کشمیر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بھارت کو منڈی کے طور پر استعمال کرنے والے ترقی یافتہ ممالک نے اسے کشمیریوں پر مظالم کے نت نئے ہتھکنڈے آزمانے کی کھلی اجازت دی ہوئی ہے۔ ان مظالم پر خاموش رہنے والا ادارہ اقوام متحدہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے یا پھرادراک ہونے کے باوجود شعوری طور پر نظر انداز کررہا ہے کہ مسلسل جبر دلوں سے خوف کو مٹا دیتا ہے اور پھروہ کہ جن کے گھر نہ رہیں ‘ باغی بن جاتے ہیں۔ ایسے باغیوں کو یہی ادارہ ''دہشت گرد‘‘قرار دے دیتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال انسانیت کی معمولی سی رمق رکھنے والی کسی بھی ریاست یا ریاستوں کے مجموعے کے لیے باعث تشویش ہوسکتی ہے‘ مگر تف ہے‘ ایسی ''تہذیب یافتہ‘‘ قوموں پر کہ جنہیں یہ ظلم و ستم نظر نہیں آتا۔برستی گولیاں‘ بارود کی بو‘ بزرگوں خواتین بچوں کی لاشیں‘ زخمی‘پیلٹ سے چھلنی چہرے لیے نوجوان یہ سب آٹھ لاکھ بھارتی ''سورمائوں‘‘ کی موجودگی میں فوجی اڈہ بن جانے والے مقبوضہ کشمیر کی پہچان توبن ہی چکا ہے‘ مگر جو کچھ اب ہورہا ہے‘ وہ شاید جنگی تاریخ میں کہیں بھی نہ ہوا ہو۔ چشم تصور سے ہی اگر دیکھنے کی کوشش کریں تو رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی افواج کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کشمیری طلبا کی جانب سے کرنا پڑرہا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ مودی کی انتہا پسند حکومت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری طلبا کو اپنا ہدف بنا لیا ۔پہلے پہل تو بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری طلبا کے احتجاج کو روکنے کے نام پر پیلٹ گنز سے سب سے زیادہ تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا‘ جس سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کی بینائی متاثر ہوئی۔ جنگی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی آنکھیں ضائع کرنے کی مثال کسی اور خطے میں نہیں ملتی۔اس خطے کے نوجوانوں کی دوربینی سے خائف بھارتی ''سورما‘‘ بصارت پرتو حملہ آور رہے ‘مگر ان کی بصیرت تک نہ پہنچ سکے تو پینترے بدلنے شروع کردئیے۔ نت نئے ہتھکنڈوں سے طلبا کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری رہا اور بدستور جاری ہے۔اس بار مودی حکومت نے براہ راست تعلیم پر وار کیا ۔
صورتحال کا جائزہ لیں تو واضح ہوگا کہ رواں سال فروری میں پلوامہ حملے کے بعد سے تعلیمی اداروں کی بندش کے ذریعے حصول تعلیم ناممکن بنانے کی کوششیں جاری تھیں۔ پلوامہ حملے کو جواز بنایا گیا اور اس کے بعد شکوک کی بنیاد پر مبینہ طور پر 13 سو سے زائد طلباء کو گرفتار کیا گیا تھا‘ جن میں سے اکثریت ابھی تک حراست میں ہیں۔خوف کا ماحول قائم رہا اور تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نام پر طلبا کو تحریک آزادی سے دور کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔طلبا کی تعلیم کا سلسلہ ابھی بحال بھی نہ ہوپایا تھا کہ امرناتھ یاترا کے دوران کسی احتجاج کو روکنے کے لیے ایک بار پھرانہی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کرطلبا کے لیے تعلیم کے دروازے بند کردئے گئے۔ جاری سال کے ابتدائی پانچ مہینوں میں کشمیری طلبا کو تعلیمی اداروں تک رسائی کے کم ہی مواقع میسر آئے تھے اور کشمیری طالب علم آزادی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مودی کے تعلیم دشمن حملوں کا بھی مقابلہ کررہے تھے۔ جب جولائی کے اختتام پر مودی سرکار نے آرٹیکل 370کو ختم کرنے کی سازش پر عملدرآمد کرنے کیلئے اقدامات کررہی تھی اور مقبوضہ کشمیر میں فوج میں اضافہ کیا جارہا تھا تو ایک بار پھر طلبا کی قوت کو کمزور کرنے کیلئے تعلیمی اداروں کو امن و امان کے نام پر ہدف بنایا گیا ۔ کشمیری ہونہاروں کا اپنے مادرعلمی میں جانا ممنوع ٹھہرا۔ اس کے بعد 5اگست کو جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ہتھیانے کی سازش پر عمل شروع کیا تو اس جنت نظیر وادی کے علمی گہوارے مکمل طو رپر بند کیے جاچکے تھے‘ جو دو ماہ سے زائد گزر جانے کے باوجود آج تک بدستور بند ہیں۔ مودی کے کشمیر ہتھیانے کے فیصلے کے بعد احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے کشمیریوں میں بڑی تعداد طلبا کی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق‘ گرفتار طلبا کی تعداد 20ہزار سے زائد ہے اور یہ اعدادوشمار بھی مواصلات کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے حتمی نہیں ۔مودی کے ان طلبا دشمن حملوں کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سرمائی سٹیشن ہے اور یہاں تعلیمی سیشن کے دوران سرما کی تعطیلات ہوتی ہیں۔یہ تعطیلات نومبرکے اختتام سے ‘ تقریباً فروری کے اختتام تک جاری رہتی ہیں۔ مودی حکومت نے انتہائی شاطرانہ انداز میں کشمیر کے مستقبل‘ یعنی کشمیری طلبا کا جاری تعلیمی سال مکمل طور پر ضائع کرکے اس نسل کو دنیا کے مقابلے میںپیچھے دھکیل دیا ہے۔ طلبا دشمن اقدامات صرف سال کے ضیاع تک ہی نہیں‘ بلکہ کشمیر میں سرما کی تعطیلات سے قبل کے تین ماہ‘ ان نوجوان طلبا میں آن لائن امتحانات‘ مقابلوں میں شرکت اور سکالرشپ کے حصول کا بہترین وقت سمجھا جاتا ہے‘ جسے بھارت کی جانب سے دو ماہ سے جاری انٹرنیٹ کی بندش کے ذریعے ختم کردیا گیا ہے۔ مودی کے طلبا کش حملوں کایہ عمل صرف مقبوضہ کشمیر کی حد تک محدود نہیں ہے‘ بلکہ بھارت کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم کشمیری نوجوانوں کو بھارتی انتہا پسند آر ایس ایس کے دہشت گردوں نے ہدف بنا لیا ہے۔ ان طلبا سے بھارت و ہندو مذہب کی حمایت اور اسلام وپاکستان مخالف نعرے بازی کروائی جاتی ہے ۔انکار کی صورت میں ان نوجوانوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا جاتا ہے۔ صرف گزشتہ تین ماہ میں 13نوجوان اس جنونی ہندوانہ ذہنیت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔اسی انتہا پسندانہ رویے کے باعث کشمیری نوجوانوں نے بھارت کے شہروں میں حصول تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع کردیا ہے اور غیر مصدقہ اعدادوشمار کے مطابق‘ تین ہزار سے زائد طلبا اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس کشمیر جاچکے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ‘ان کشمیری طالبعلموں کو آر ایس ایس کے درندوں سے بچا کر محفوظ طریقے سے اپنے آبائی گھروں کی جانب روانہ کرنے میں سکھ برادری نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ یا امن کے دوران طلبا کو اس طرز پر ہدف بنانے کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔مودی تو شاید مسلم و پاکستان دشمنی میں حواس کھو بیٹھا ہے‘ مگر بھارت کے ان مظالم پر چپ سادھ لینے والی عالمی برادری کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ اس ظلم و جبر کی کوکھ سے کتنے برہان وانی و ذاکر موسیٰ جنم لیں گے ‘جو مستقبل میں اقوام متحدہ کی ''امن پسندی‘‘ کی بھینٹ چڑھ کر دہشت گرد قرار پائیں گے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔دنیا کا طرز عمل اس حوالے سے جو بھی ہو کشمیری طلبا جرأت و استقامت اور حریت و عزیمت کا استعارہ بن چکے ہیں ۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں