"FBC" (space) message & send to 7575

ریلوے اور شیخ صاحب کی پیش گوئیاں

یہ میرا بیٹا ہے ‘ نہیں یہ میرا بیٹا ہے ۔ ایک بزرگ مرد اور ایک خاتون سول سپتال کراچی کی ایمرجنسی میں رکھی سینکڑوں کوئلہ بنی ناقبل شناخت لاشوں میں سے ایک کے پاس کھڑے دھیرے دھیرے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے۔ ان کے آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور بات کرتے ہونٹ بھی کپکپا رہے تھے۔وہ ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ دونوں اس لاش کو اپنا بیٹا قرار دے رہے تھے‘دونوں ایک جیسے کرب سے دوچار تھے۔ سو‘ دوسرے کی کیفیت بھی سمجھ رہے تھے۔ وہ کوئلہ بنا جسم چند لمحے پہلے ان میں سے کسی ایک کالال تھا یاشاید دوسرے کے بڑھاپے کی لاٹھی ۔ میں اور دیگر رپورٹر ساتھی ان دونوں کی بات چیت سن رہے تھے ۔ انہیں دیکھ کر کبھی ایسا محسوس ہوتا کہ شاید دونوں یہ چاہتے ہیں کہ یہ ان کے بیٹے کی لاش نہ ہو اور ساتھ ہی خیال آتا کہ شاید دونوںدعا کررہے ہیں کہ یہ لاش ان کے بیٹے کی ہونے کی تصدیق ہوجائے تاکہ وہ اس اذیت ناک امتحان سے گزر سکیں اور اس قیامت کے ماحول سے نکل سکیں۔اس جگہ سینکڑوں کوئلہ بنے اجسام پڑے تھے اور ان کے لواحقین اپنے پیاروں کو پہچاننے سے قاصر تھے۔لواحقین کبھی کسی لاش پر بین کرتے تو کبھی کسی سوختہ لاش کے چہرے پر آنسو بہاکر پہچاننے کی کوشش کرتے۔ یہ دلدوز مناظرسانحہ 11ستمبر 2012ء کے ہیں‘ جب شہر کراچی ایم کیو ایم کی فسطائیت کا شکار تھا اور بلدیہ ٹائون فیکٹری کو بھتہ نہ دینے کے ''جرم‘‘ میں مرکزی دروازے مقفل کرکے آگ لگادی گئی تھی ۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچے مگر فسطائی اپنے بڑوں کی سربراہی میں کسی کو فیکٹری کے قریب نہیں جانے دے رہے تھے۔ دوسری جانب ہم میڈیکل سپریٹنڈنٹ سول ہسپتال سے رابطے میں تھے ‘جو ہر تھوڑی دیر بعد مسلسل لاشوں کی تعداد میں اضافے کی خبر سنا دیتے تھے۔ یہ تعداد بڑھتے بڑھتے 340سے زائد ہوچکی تھیں‘ مگر پھر اچانک کم ہو کر 274بتائی گئی اور اس کے بعد سول ہسپتال میں لاشیں تو آتی رہیں ؛البتہ تعداد اس سے زیادہ نہ بڑھی۔ کھوج لگانے پر انکشاف ہوا کہ شہر پر مسلط درندوں کے آقا کی جانب سے حکم آیا تھا کہ اس سے زیادہ تعداد میڈیا کو نہیں بتائی جائے گی اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ آج بھی دنیا کو یہی جانتی ہے کہ 274افراد جل کر کوئلہ بن گئے تھے‘ جبکہ موقع پر موجود صحافی جانتے ہیں کہ تعداد زیادہ تھی؛ البتہ کوئی زیادہ تعداد بتا کر اپنی بوری بنوانے کو تیار نہ تھا۔گزشتہ ماہ اس سانحہ کو سات سال مکمل ہوچکے ہیں ‘ آج بھی اس سانحہ کی 17لاشیں ناقابل شناخت ہیں اور امانت کے طور پر سپرد خاک ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ باقی سانحات کی طرح اس سانحہ کے ذمے داران میں سے کسی ایک کی بھی سزا پر عملدرآمد نہیں ہوا اور لواحقین ؛اگرچہ انصاف سے مایوس ہوکر معاملہ اللہ کا سپرد کرچکے ہیں‘مگر یقینی طور پر وہ کوئلہ بن جانے والے اپنے پیاروں کو نہیں بھولیں ہوں گے۔
سول ہسپتال جیسے ہولناک مناظر دوبارہ اس وقت دیکھنے کو ملے‘ جب سانحہ تیزگام کی لاشیں ناقابل شناخت ہونے کی وجہ سے ڈی این اے کے لیے ہسپتال لائی گئیں۔کسی پیارے کی اچانک موت کا صدمہ ویسے ہی ناقابل برداشت ہوتا ہے‘ مگر ایسی موت کہ جس میں اپنے پیارے کی پہچان بھی نہ ہوسکے ‘اس کرب کا اندازہ صرف وہی کرسکتے ہیں‘ جو اس سے گزرتے ہیں۔آج سانحہ تیزگام کے لواحقین بھی اسی صدمے سے دوچار ہیں۔ وہ بھی اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے محتاج ہیں۔ یہ سانحات و یہ مناظر اس وقت تک ملک کے حصے میں آتے رہیں گے‘ جب تک سانحات کے مجرموں اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو عبرت ناک سزا نہیں دی جاتی۔سانحہ تیزگام کے ذمے داران کا تعین اور انہیں قانون کے کٹھہرے میں لانے کی ضرورت ہے؛ اگرچہ شیخ رشید کہہ چکے ہیں کہ وہ ذمہ دار نہیں ‘ مگر پھر بھی پتا نہیں کیوں وہ اتنے بوکھلائے بوکھلائے تھے کہ انٹرویو میں یہ نہ بتاسکے کہ پہلے کیا پھٹا تھا؟ ان کے بے ربط جملوں کی ترتیب کچھ اس طرح تھی؛ پہلے ناشتہ پھٹا‘ اس لیے چولہا پھٹا اور پھر سلنڈر پھٹا۔مجھے یقین ہے کہ کچھ بھی ہوا ہو ‘ شیخ رشید یقینی طور پر اپنی ''غیرمرئی صلاحیتوں‘‘ کے ذریعے ذمے داران کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ ان کی ''پوشیدہ صلاحیتوں‘‘ سے کون واقف نہیں ہے؟ ان کی پیش گوئیاں بلاوجہ تو نہیں ہوتیں‘ ان پیش گوئیوں کے پیچھے ‘ان کی دہائیوں کی ''ریاضت‘‘ ہے۔اب تو صورتحال یہ ہے کہ ریلوے کا پورا نظام ہی ایس او پیز کی بجائے ان کی ''پیش گوئیوں اور غیرمرئی صلاحیتوں ‘‘ پر چل رہا ہے۔ 
آپ یقینی طور پر حیران ہوں گے کہ کیسے؟ چلے آپ کو تفصیل سے سمجھاتے ہیں ۔ کسی بھی ادارے کے لیے ایس او پیز طے کیے جاتے ہیں‘جو بہرحال ریلوے کے لیے بھی موجودہ حکومت سے قبل تک تو موجود تھے‘ مگر اب کی صورتحال کا اندازہ آپ یہ تفصیل پڑھ کر خود کرلیجئے گا۔ ایس اوپیز کہتے ہیں کہ ہر ڈویژن میں اضافی بوگیاں رکھی جائیں‘ تاکہ خراب بوگیوں کی مرمت کے دوران متبادل موجود ہو‘ مگر شیخ صاحب کا وجدان کہتا ہے کہ ہماری بوگیاں خراب ہی نہیں ہوسکتیں‘ اس لیے اضافی بوگیوں پر مشتمل چھ نئی ٹرینیں چلا دی گئیں۔ اس عمل سے کپتان کو خوش کیا گیا یا بے وقوف بنایا گیا؟ یہ فیصلہ آپ کرلیں‘ پھر ایس او پیز کے مطابق‘ ہر ڈویژن میں سپروائزر اپنی ٹیم کے ساتھ ریلوے ٹریک کی مانیٹرنگ کرکے دو بار ماہانہ رپورٹ جمع کروائے گا اور انجینئر ‘ اسسٹنٹ انجینئر اور انسپکٹر آف ورکس انفرادی طور پر ٹرین کے انجن اور بوگیوں کی مانیٹرنگ کرکے فالٹ کی نشاندہی کریں گے‘ مگر شیخ صاحب کی شخصیت کا جادو اور ان کی ماورائے عقل صلاحیتوں کے اثرات دیکھیں کہ یہ رپورٹس جمع کروائے جانے کا عمل ناپید ہوچکا ہے۔ پاکستان ریلوے والوں کو یقین کامل ہے کہ اگر کسی انجن یا بوگی میں کوئی فالٹ ہوا تو ان کے مربی شیخ رشید پیش گوئی کردیں گے۔ ہر ٹرین میں ایک تکنیکی ماہر موجود ہوتا ہے‘ جس کی ذمے داری کسی ناگہانی صورتحال میں ٹرین کو بڑی تباہی سے بچانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔ یہ تکنیکی ماہرین الائونسز میں اضافہ کے مطالبہ کے ساتھ مئی 2019ء سے ہڑتال پر ہیں اور ٹرینیں ان ماہرین کے بغیر روانہ کی جاتی ہیں۔ شیخ صاحب بہتر جانتے ہوں گے کہ کیا یہ اضافی اور غیر ضروری لوگ تھے؟ اس لیے ان سے مذاکرات کرکے واپس لانے کی ضرورت نہیں ہے؟ویسے کہنے والے کہتے ہیں کہ تیزگام کی بوگی میں آگ لگی تو اسے علیحدہ کرنا ''ہڑتالی تکنیکی ماہر ین‘‘ کا ہی کام تھا۔ ان کی غیر موجودگی میں تیزگام کے ڈرائیورنے گاڑی روکی اور گارڈکے ساتھ ملکر اپنے طور پر کوششیں کی‘ جس کے بعد وہ بوگیوں کی ''کپلنگ‘‘ کھول کر انہیں ٹرین سے علیحدہ کرنے میں کامیاب تو ہوگئے‘ مگر اس وقت تک آگ تین بوگیوں کو جلا کر خاکستر کرچکی تھی۔ شیخ صاحب سے خائف ریلوے افسران تو دبے دبے یہ کہتے بھی پائے جارہے ہیں کہ اگر ڈرائیور و گارڈ ہمت نہ کرتے تو آگ پوری ٹرین کو بھی جلا سکتی تھی۔یہ تو تکنیکی صورتحال‘ سکیورٹی کی صورتحال یہ ہے کہ ہر ڈویژن میں ریلوے پولیس کے ایس ایس پی کی تعیناتی ضروری ہے‘ مگر تمام ڈویژن ڈی ایس پیز کی نگرانی میں کام کررہے ہیں۔ریلوے پولیس میں ‘چونکہ ''اوپر کی کمائی‘‘ کے مواقع کم ہیں‘ اس لیے پولیس کے ''کمائو پوت‘‘اس طرف آنے سے گریزاں ہیں۔ توجناب! سکیورٹی کے حوالے سے تو مکمل طور پر شیخ صاحب کی پیش گوئیوں پر انحصار کرنا ہوگا ۔ دوسری طرف سادہ عوام مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں‘ مگر اس سے تو قطعی فرق نہیں پڑتا کہ عوام کیا چاہتے ہیں؟ دیکھنا تو یہ ہوگا کہ شیخ صاحب کیا چاہتے ہیں اور کیا نئی پیش گوئی کرتے ہیں۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں