"FBC" (space) message & send to 7575

تیری دنیا میں مَیں محکوم و مجبور

لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گھپ اندھیرے میں اچانک گاڑی کے سامنے آنے والی عورت اپنے موبائل کی روشنی سے مجھے رکنے کا اشارہ کررہی تھی، ہیڈلائٹس کی روشنی میں جب میں نے غور کیا تو ایک گاڑی موٹر وے پر ترچھی کھڑی تھی اوراس خاتون کے ساتھ ایک اٹھارہ‘ انیس سال کی لڑکی اور ایک آٹھ سال کا بچہ بھی مجھے رکنے کا اشارہ کررہے تھے۔ میں ان سے تقریباً کوئی دو سو میٹر آگے جاکر گاڑی روکی ، اپنی اہلیہ کو کہا کہ گاڑی اندر سے لاک کرلو اور خود ان خواتین کی جانب واپس آیا۔ جب ان کے قریب پہنچا تو وہ خاتون تیزی سے میری جانب آئیں او ر انتہائی خوف کی حالت میں کہنے لگیں: بیٹا اللہ کا واسطہ ہے جانا مت۔یہ ایک خوفزدہ ماں تھی، جس کی آنکھوں میں کسی انہونی کا خوف تھا اور اس کی انگلیوں کی پوریں اس انہونی کو روکنے کے لیے مسلسل تسبیح کے دانوں کو دائرے میں حرکت دے رہی تھیں۔ وہ خاتون کہنے لگیں: ہم کافی دیر سے یہاں کھڑے ہیں اور مدد کے لیے گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کررہے ہیں مگر کوئی نہیں رُک رہا۔ موٹروے ہیلپ لائن پر کال کررہے ہیں تو جواب مل رہا ہے کہ یہ ہمارا ایریا نہیں ہے۔خاتون کے ساتھ موجود لڑکی کے چہرے پر خوف ثبت ہوگیاتھا اور وہ کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی، اس لئے گاڑی کے سہارے خود کو سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی۔ میں نے خاتون کو تسلی دی اور ان کی گاڑی کے قریب پہنچا تو دیکھا ایک اٹھارہ بیس سالہ لڑکا بھی موجود تھا جو گھبرایا ہوا گاڑی سے لگ کر کھڑا تھا۔ لڑکے نے بتایا کہ گاڑی کا ٹائرپھٹ گیا ہے اور اس کے پاس ٹائر تبدیل کرنے کے لیے اوزار نہیں ہیں۔ قصہ مختصر‘ اوزار فراہم کرنے کے ساتھ اس کے ساتھ مل کر ٹائر تبدیل کرایا تو پتا چلا کہ گاڑی سٹارٹ نہیں ہورہی۔اس دوران قریب سے ایک ''نیلی بتی‘‘ والی گاڑی اپنے پروٹوکول کے ساتھ گزری جسے اس خاتون نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رکی۔وہ خاتون مسلسل موٹروے والوں کو فون کررہی تھی، دوسری طرف اس خاتون کا شوہر لاہور سے موٹر وے پولیس کو فون کررہا تھا۔ میں نے اس لڑکے سے کہا کہ گاڑی کا اسٹارٹ ہونا اور قریب سے مدد پہنچنا فی الحال تو مشکل نظر آرہا ہے۔ آپ پہلے خواتین کو محفوظ مقام پر پہنچائیں پھر واپس آکر گاڑی ٹھیک کرائیں۔ اس دوران وہ خاتون جو مسلسل اپنے شوہر سے فون پر رابطے میں تھی اور گھبراہٹ و خوف کی وجہ سے مسلسل روئے جارہی تھی‘ نے اپنے شوہر کی مجھ سے بات کرائی۔ ان کے شوہر نے میرا انٹرویو لینا شروع کر دیا اور تمام تفصیلات پوچھنے کے بعد کہنے لگے کہ میں گھر سے نکل آیا ہوں، یا تو آپ میری فیملی کے ساتھ انتظار کرلیں،میںجلد پہنچ جائوں گا یا آپ میری فیملی کو اپنی بچوں کے ساتھ لاہور ٹول پلازہ تک لے آئیں، میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔وہ لڑکا گاڑی کے پاس ہی رک گیا جبکہ وہ خواتین اور بچہ میری فیملی کے ساتھ گاڑی میں ایڈجسٹ ہو گئے۔ لاہور پہنچ کر وہ فیملی اپنے گھر کو روانہ ہوگئی اورجاتے ہوئے کہنے لگی کہ خدا آپ کی ہر موقع پر مدد کرے۔ گھر پہنچ کر بھی وہ لوگ فون کرکے دیر تک شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دعائوں سے نوازتے رہے۔
ہوا کچھ یوں کہ والد صاحب پر جمعرات کی شب اچانک فالج کا حملہ ہوا۔ یہ خبر ملنے کے فوری بعد میں اہل خانہ کے ساتھ سیالکوٹ روانہ ہوگیا جہاں والد صاحب چھوٹے بھائی کے ساتھ قیام پذیر ہیں۔ اتوار کو والد صاحب کے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد میں رات دیر گئے لاہور واپسی کا سفر شروع کردیا۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر جب میں رات 12 بجے مریدکے انٹرچینج سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا تو یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ سے صرف پانچ روز قبل یہی موٹر وے ایک سانحہ دیکھ چکی تھی۔ ایک ماں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے خود کو درندوں کے سامنے کردیا تھا اور درندے اسے بھنبھوڑتے رہے۔ ایسا سانحہ کہ جس میں لاقانونیت تمام حدیں پھلانگ گئی، موٹروے پولیس اور پنجاب پولیس وقوعہ کی حدود پر الجھتے رہے، کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھااور ایسا تاثر مل رہا تھا کہ شاید لاہور سیالکوٹ موٹروے پاکستان کا حصہ ہی نہیں۔ذمہ داری تو کسی نے قبول نہ کی البتہ آئی جی پنجاب نے احسان عظیم کرتے ہوئے 250 اہلکار تعینات کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ پھر اس دعوے کی حقیقت اس وقت کھلی جب میں خود سیالکوٹ سے واپس آرہا تھا،تقریباً 91کلومیٹر طویل اس روٹ پر آئی جی صاحب کے ان 250 اہلکاروں میں سے کوئی ایک اہلکار بھی‘ نہ تو مجھے نظر آیا اور نہ گاڑی کا ٹائر پھٹ جانے کی وجہ سے پریشان حال کھڑی اس فیملی کو۔
موٹر وے پر ایسے المیے نے جنم لیا کہ جس نے انتظامی ڈھانچے کا پول کھول کر رکھ دیا۔ جس نے دیکھا لرز گیا،جس نے سنا دہل گیا، ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اپنے بچوں کو اس خبر کی تفصیلات سے دور رکھنے کے لیے اس دن گھروں میں ٹی وی ہی آن نہیں کیا۔ عالمی میڈیا اربابِ اختیار کی بے حسی پر چیخ اٹھا۔ملک کے کرتادھرتائوں کے تو ایسے ہاتھ پائوں پھولے کہ کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔ وہ جن کا کام ملزمان کو گرفتار کرنا تھا‘ فوری طور پر ناصح بن گئے اور خواتین کے رات کو سفر کرنے کے نقصانات پر مبنی نصیحتوں سے نوازنا شروع کردیا۔ جب شدید عوامی ردعمل نے ہوش دلایا کہ آپ کا کام نصیحت کرنا نہیں بلکہ عوام کو تحفظ دینا اور ملزمان کو گرفتار کرنا ہے تو معافی تلافی پر اتر آئے۔ وقوعے کے اطراف میں چھان بین شروع کی گئی اور پھر دو مبینہ ملزمان کی تفصیلات میڈیا کو جاری کرکے عوامی دبائو کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ان کوششوں میں اس قدر تیزی تھی کہ تاریخ میں پہلی بار ایسی پریس کانفرنس کی گئی جس میں ملزمان کی گرفتاری کے بجائے ان کے فرار کی کہانی سنائی گئی۔اس موقع پر سوشل میڈیا پر یہ سوالات بھی بدستور اٹھائے جاتے رہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گھپ اندھیرے میں بند کھڑی گاڑی کی لوکیشن مجرموں نے کیسے ٹریس کی؟ خاتون نے اپنی لوکیشن کس کس کو بھیجی تھی؟ ایک مبینہ ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تو وہ پولیس کے پہنچتے ہی بیوی کے ساتھ کیسے فرار ہوگیا؟پولیس ایک عام سے غنڈے کو بھی گھیر کر گرفتار کیوں نہ کرسکی؟ان سوالات کے جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ ہمارے ملک کی یہ روایت رہی ہے کہ حقائق ہمیشہ وقت گزرنے کے بعد کسی ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی کتاب میں سامنے آتے ہیں تواب ہم بھی انتظار کرتے ہیں کہ آئی جی پنجاب انعام غنی صاحب یا سی سی پی او عمر شیخ صاحب کب مستقبل میں اپنے کارناموں کا مجموعہ ترتیب دیں اور کب کچھ حقیقت اس سانحے کی بھی کھل سکے۔ 
اب صورتحال یہ ہے کہ 66مقامات پر چھاپے مارنے کے باوجود مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہوسکا؛ البتہ اس کے مبینہ ساتھی ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ 55افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں جن میں سے ایک گرفتار ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے۔ جب پیش رفت ہوئی تو وہ حاکمِ وقت بھی بول اٹھے جو اس سانحے کے بعد سے مسلسل خاموش تھے۔ پھر بولے بھی تو ایسا کہ سزائے موت نہیں ہونی چاہئے‘ یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ اب کوئی کہتا ہے کہ زیادتی کرنے والوں کو نامرد بنا دیا جائے اور کوئی کہتا ہے کہ مجرموں کے اعضا کاٹ دیے جائیں۔ کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ہمارے قانون میں ایسے مجرموں کے لیے جو سزا مقرر ہے‘ وہ دی جائے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہی سمجھ آتا ہے کہ ملک کو آئین و قانون کے بجائے اپنی خواہشات پر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جب تک یہ کوشش جاری رہے گی ،درندوں کو چیڑنے پھاڑنے کی آزادی رہے گی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں