نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈکی جانب سےسکیورٹی خدشات،پاکستان کےساتھ سیریزمنسوخ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈنےیکطرفہ طورپرسیریزمنسوخ کردی،پی سی بی
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےنیوزی لینڈکی ہم منصب کوبھرپوریقین دہانی کرائی تھی،پی سی بی
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےیقین دہانی کرائی تھی مہمان ٹیم کوکوئی خطرہ نہیں،پی سی بی
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈحکام کی جانب سےسکیورٹی خدشات کااظہارکیاگیا،پی سی بی
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور ابرار احمد

کشمیر میں الیکشن شفاف ہوئے تو
پی پی جیتے گی: یوسف رضا گیلانی
سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ''کشمیر میں الیکشن شفاف ہوئے تو پی پی جیتے گی‘‘ اور اگر پی پی نہ جیتی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ الیکشن شفاف نہیں ہوئے اور ہمارے خیال میں زیادہ امکان بھی یہی ہے کہ ہمیں ہرانے کی ایک کھلی سازش ہو گی اور جس کے آثار ابھی سے نظر بھی آ رہے ہیں کیونکہ لوگوں کو ہمارے خلاف ورغلایا جا رہا ہے جس کی اطلاع مجھے کئی ووٹروں نے خود دی ہے کہ انہیں ورغلایا گیا ہے اس لیے وہ ہمیں ووٹ دینے سے قاصر ہیں، اگرچہ ہم نے بھی متعدد ووٹروں کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی جواب دیا کہ وہ پہلے ہی ورغلائے جا چکے ہیں اور انہیں اب مزید ورغلایا نہیں جا سکتا۔ آپ اگلے روز عید کے موقع پر ملتان میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
نواز اور مودی کی دوستی ابھی تک برقرار ہے: فرخ حبیب
وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ''نواز شریف اور مودی کی دوستی ابھی تک برقرار ہے‘‘ کیونکہ وہ دوستی اور دشمنی دونوں کو برقرار رکھتے ہیں جو ان کے بیانات سے بھی صاف ظاہر ہے، تاہم مودی کے ساتھ ان کی دوستی کے حوالے سے ہم ان کی مجبوریوں کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ ملک سے باہر بھی ان کے مفادات ہیں جبکہ ہمارے مفادات ملک کے اندر ہیں اور جن جن وزرا کرام کے مفادات یہاں پائے جاتے ہیں ان کا سب کو علم بھی ہے حتیٰ کہ ایف آئی اے اور احتساب کے ادارے بھی ان سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان کی حب الوطنی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان کے مفادات بھارت کی بجائے اپنے ملک کے اندر ہیں۔ آپ اگلے روز فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
برطانیہ نے نواز شریف ٹائپ افراد کے
خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا: شہباز گل
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ ''برطانیہ نے نواز شریف ٹائپ افراد کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا‘‘ چنانچہ کوئی کارروائی کرنے سے پہلے فی الحال وہ ایسے افراد کی فہرستیں تیار کر رہے ہیں جنہیں نواز شریف ٹاپ کہا جا سکتا ہے حتیٰ کہ وہ یہ بھی دیکھیں گیے کہ نواز شریف کا اپنا شمار بھی نواز شریف ٹائپ افراد میں ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غور و خوض کے بعد موصوف کسی اور ہی ٹائپ کے نکل آئیں کیونکہ وہ اپنا ٹائپ اپنی مرضی کے مطابق کسی وقت بھی تبدیل کر سکتے ہیں جیسا کہ وہ ٹھیک ٹھاک صحت مند ہونے کے باوجود اگر اپنے آپ کو شدید بیمار ٹائپ میں بدل سکتے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ بھی کر کے سب کو حیران کر سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز ٹویٹ کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر الیکشن کمیشن کے حکم کی
دھجیاں اڑا رہے ہیں: شیری رحمن
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ ''وفاقی وزیر الیکشن کمیشن کے حکم کی دھجیاں اڑا رہے ہیں‘‘ اور ہم ان دھجیوں کو ایک ایک کر اکٹھا کر رہے ہیں جبکہ ہمیں اکٹھا کرنے کا خاصا تجربہ بھی حاصل ہے جس کی شاندار مثالیں ہمارے قائدین کی شکل میں پہلے ہی موجود ہیں بلکہ ہم یہ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اکٹھی کی ہوئی چیز کو ملک سے باہر بھیجنا ہے یا کسی اور طریقے سے محفوظ بنانا ہے اور اسی طرح ہم ان دھجیوں کا بھی کوئی بہتر اور مفید استعمال اختیار کر لیں گے کیونکہ ہم مفت میں کوئی چیز اکٹھی نہیں کرتے کہ ہم گناہ بے لذت میں یقین ہی نہیں رکھتے اور اسی لیے ہماری ساری جمع پونجی میں ہر طرف برکت ہی برکت نظر آ رہی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کر رہی تھیں۔
آزاد کشمیر میں الیکشن نہیں سلیکشن ہو رہی : سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''آزاد کشمیر میں الیکشن نہیں سلیکشن ہو رہی ہے‘‘ اور چونکہ وہاں تحریک انصاف کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے اس لیے ہمارے نقطہ نظر سے ایسا ہونا یقینی امر ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ پہلے بھی وہ اسی طرح اقتدار میں آئی تھی اس لیے اب وہ اس کے بغیر کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جبکہ سلیکٹ کرنے والوں کو بھی تحریک انصاف کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا حالانکہ کچھ مظلوم سیاسی جماعتیں اور بھی ہیں جو الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکتیں اور وہ سلیکٹ ہونے کی پوری طرح مستحق ہیں، اس لیے اسے غیر جانبداری کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا اور اس پر جتنی بات کی جائے کم ہے۔ آپ اگلے روز منصورہ میں خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور، اب آخر میں ابرار احمد کی نظم:
یادوں اور بادلوں میں
چاندنی میں آنکھیں بھیگ گئی ہیں
شاید کہیں کچھ ہوا ہے
کوئی دیوار گر گئی ہے
یا رونے کی آواز آ رہی ہے
کوئی کھلونے بیچ رہا ہے
بچے سکول جا رہے ہیں
یا دروازے پر دستک ہو رہی ہے
شاید اس لڑکی نے زہر کھا لیا ہے
یا پھر وہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے
دیواروں میں پانی سویا ہوا ہے
رات کے دالان میں موتیے کے پھول
کھلے ہیں
یا پھر درختوں میں ہوا چل رہی ہے
یادوں اور بادلوں میں گھومنے سے
آدمی بہت دور نکل جاتا ہے
شاید ہوا تیز ہو گئی ہے
یا پھر بادل منڈیروں تک
جھک آئے ہیں
اندھیرے میں ڈوبتے ہوئے ہاتھ
دکھائی دیتے ہیں
تم کون ہو۔۔۔۔؟
حالانکہ اس سے کیا ہوتا ہے
بارشوں میں مٹی بیٹھ جاتی ہے
خواب دیکھنے اور نیند میں چلنے والوں کے لیے
کوئی جگہ نہیں
اور پھر میں یہاں سے چلا جائوں گا
اپنے خوابوں کے ہمراہ
نیند کے جنگل میں
یا سو رہوں گا۔۔۔۔ یہیں کہیں
تمہارے آس پاس۔۔۔۔
آج کا مقطع
جنگل میں مور ناچ رہا ہے ابھی، ظفر
جلدی سے کوئی دیکھنے والا کہیں سے لاؤ

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں