نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈٹیم کی واپسی پربھارتی میڈیا جشن منارہاہےیابیگم صفدراعوان،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- بیگم صفدراعوان کی والد کےنقش قدم پرچلنے کی روش برقرار ،فیاض الحسن
  • بریکنگ :- ثابت ہو گیا شریف خاندان مودی کاسچا دوست ہے،فیاض الحسن چوہان
  • بریکنگ :- مودی سےمحبت ،وطن سے دشمنی ،شریف خاندان نے اپنے عمل سے ثابت کیا،فیاض الحسن
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور افضال نوید

نیب شہباز شریف کے خلاف ایک دھیلے
کی کرپشن ثابت نہیں کر سکی: مریم اورنگزیب
نواز لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ''نیب شہباز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکی‘‘ اور یہی شہباز شریف کا چیلنج بھی تھا کہ میرے خلاف دھیلے کی کرپشن ثابت کریں بلکہ ان کے خلاف تو ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت نہیں کی جا سکی؛ چنانچہ احتساب واے اُن کے خلاف دھیلے اور پائی کی کرپشن ثابت کرنے میں ہی مصروف رہے اور ناکام ہوئے اور خود شہباز شریف دھیلوں اور پائیوں ہی کی گڑ بڑ کو کرپشن سمجھتے ہیں ورنہ اگر وہ روپوں اور ڈالروں کاچیلنج کرتے تو ان کی اس بات پر بھی کوئی توجہ دی جاتی اور اس ناکامی پر حکومت کا احتساب کا ڈرامہ پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہی تھیں۔
مسلسل جدوجہد سے مسائل
پر قابو پا لیا ہے: فرخ حبیب
وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ''مسلسل جدوجہد سے مسائل پر قابو پا لیا ہے‘‘ اور اب صرف مہنگائی اور بیروزگاری‘ صرف دو مسائل باقی رہ گئے ہیں اور ان پر اس لئے قابو نہیں پایا جا سکا کہ یہ قدرت کی طرف سے ہیں اور بندوں کے عزم و حوصلہ کا امتحان ہیں؛ تاہم عوام پوری جفاکشی سے اس امتحان میں کامیاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ قدرت کے کاموں میں دخل دینے سے منع کیا گیا اور اسی لئے ہم بھی راضی برضا ہی کی کیفیت میں ہیں کیونکہ اتنا بڑا مسئلہ قدرت کی مرضی کے بغیر کیسے حل ہو سکتا ہے۔ آپ اگلے روز امریکن کالونی میں کارپٹ روڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
مہنگائی کا طوفان برپا، مستقبل
پیپلز پارٹی کا ہے: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''مہنگائی کا طوفان برپا، مستقبل پیپلز پارٹی کا ہے‘‘ اور ہمارا مستقبل بھی اسی مہنگائی کی بنیادوں پر استوار ہے جو ایک سنہری موقع کی صورت میں ہمیں دستیاب ہوئی ہے اور ہماری یہی دعا ہے کہ یہ اسی طرح سے جاری و ساری رہے بلکہ اس میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو تاکہ ہمارے مستقبل کے روشن ہونے کے امکانات زیادہ یقینی ہو سکیں، لیکن حکومت جس زور و شور سے مہنگائی کے اس طوفان کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کر رہی ہے یہ ہماری تشویش اور فکرمندی میں اضافے کا باعث ہے۔ آپ اگلے روز ملتان میں مصروف دن گزارنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
احساس پروگرام کو بدعنوانی‘ سیاسی
مداخلت سے پاک کر دیا: ثانیہ نشتر
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیفِ غربت ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ ''احساس پروگرام کو بدعنوانی اور سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا ہے‘‘ البتہ اس وقت تک کافی سارا نقصان ہو چکا تھا کیونکہ ایسے معاملات پر کامیابی حاصل کرنے میں کافی وقت لگتا ہے ا ور کئی قریبی حلقوں کو ناراض بھی کرنا پڑتا ہے لیکن ہم بالآخر یہ رسک لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ایسے عناصر سے درخواست ہے کہ دوبارہ ایسے ناپسندیدہ مشاغل سے گریز کریں اور ہمیں بار بار امتحان میں نہ ڈالیں کیونکہ ہم دوبارہ ایسی صورت حال کا قلع قمع کرنے کیلئے مجبور ہوں گے‘ اس لئے ہم سے آئندہ کسی لحاظ کی توقع نہ رکھی جائے۔ آپ اگلے روز بٹگرام میں ایک نجی سکول کا دورہ اور بچوں میں انعامات تقسیم کر رہی تھیں۔
حکومت کی توجہ جھوٹے کیس بنانے پر مرکوز ہے: حمزہ
صوبائی اسمبلی پنجاب میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ''حکومت کی توجہ جھوٹے کیس بنانے پر مرکوز ہے‘‘ اور سچے کیسز کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے اور یہ کسی اچھی حکومت کو زیب نہیں دیتا اور اگر حکومت یہ جھوٹے کیس واپس لے لے تو ہم ٹھیک ٹھاک اور سچے کیسز کی نشاندہی کر کے حساب برابر کر دیں گے جبکہ ہم نے اثاثوں کا برابر حساب رکھا ہوا تھا کیونکہ ہم بے حسابی پہ یقین نہیں رکھتے ماسوائے اس بے حسابی کے جو ہم روپے پیسے کے معاملات میں ملحوظِ خاطر رکھتے تھے‘ اس لئے گزارش ہے کہ جھوٹ‘ سچ میں امتیاز روا رکھا جائے اور حکومت سچے کیسز کا خود بھی سراغ لگانے کی کوشش کرے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں فیصل ہاشمی کی پسندیدہ افضال نوید کی یہ غزل
اپنے ہی تلے آئی زمینوں سے نکل کر
آ جاتا ہوں شاخوں پہ دفینوں سے نکل کر
دروازے تھے کچھ اور بھی دروازے کے پیچھے
برسوں پہ گئی بات مہینوں سے نکل کر
سو جاتی ہے بستی تو مکاں پچھلی گلی میں
تنہا کھڑا رہتا ہے مکینوں سے نکل کر
مدت سے مرے راستے میں آیا ہوا ہے
پتھر سا کوئی تیرے نگینوں سے نکل کر
ایک روز جو دیوار تھی وہ ہم نے گرا دی
پانی میں چلے آئے سفینوں سے نکل کر
ایسی کوئی آسان ہے دیوانگی یارو
آئی بھی تو آئے گی قرینوں سے نکل کر
کس صبحِ تماشا کا بچایا ہوا سجدہ
رُخ پر چلا آتا ہے جبینوں سے نکل کر
وہ ا ور کوئی ابر ہے جو چھٹتا نہیں ہے
سر پر جو کھڑا رہتا ہے سینوں سے نکل کر
دنیا کو پروئے گا نویدؔ ایک لڑی میں
آئے گا کوئی خاک نشینوں سے نکل کر
آج کا مطلع
یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تُو نہ ملا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں