نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ہم نے عدلیہ کی بحالی کیلئے 2 لانگ مارچ کیے،سعد رفیق
  • بریکنگ :- آپ طاقت کےبل بوتےپرسیاسی حقیقت کوبدل نہیں سکتے،سعد رفیق
  • بریکنگ :- سی پیک سردخانے کی نذرہوچکاہے،خواجہ سعد رفیق
  • بریکنگ :- احتساب کےنام پرانتقام لیاجارہاہے،خواجہ سعد رفیق
  • بریکنگ :- حکومت اپوزیشن کےساتھ حالت جنگ میں ہے، سعد رفیق
  • بریکنگ :- حکومت کامقصد صرف اپنا چورن بیچنا ہے،خواجہ سعد رفیق
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کوآگ لگانے کی بات کی جاتی ہے، سعد رفیق
  • بریکنگ :- اس حکومت کاکیاہوگا جواداروں کیساتھ حالت جنگ میں آجائے، سعد رفیق
  • بریکنگ :- ملک آرڈیننس پرچلایاجارہاہے،خواجہ سعد رفیق
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں،متن اور ہڈالی سے گل فراز

جیالے جیئے بھٹو کا نعرہ لگا کر حکومت
کا تختہ الٹ دیں: بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''جیالے جیئے بھٹو کا نعرہ لگا کر حکومت کا تختہ الٹ دیں‘‘کیونکہ حکومت گرانے کا یہی ایک طریقہ باقی رہ گیاہے، باقی تو سب ہم آزما چکے ہیں اور اگر ان میں نعرہ لگانے کی سکت نہ ہو تو اپنی فاقہ مستی کی بدولت یہ قوت حاصل کر لیں کہ ویسے بھی بھوکا شیر زیادہ لڑتا ہے اور اگر زیادہ کھایا ہو تو ہرگز نہیں لڑا جا سکتا اور ہمارا پرابلم بھی یہی ہے، اگرچہ زیادہ کھانا ہضم بھی دیر سے ہوتا ہے لیکن اس کے لئے بھی ہمارے پاس زود اثر پھکیوں کا کافی ذخیرہ موجود ہے؛ البتہ اس بات کی ہمت نہیں ہے کہ کم کھا کر یا بھوکا رہ کر لڑنے کی طاقت پیدا کر سکیں۔ آپ اگلے روز ڈیرہ غازی خان میں جلسے سے خطاب اور ملتان میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
خطہ بدلنے جا رہا، نیا بلاک بن سکتا ہے: شیخ رشید
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''خطہ بدلنے جا رہا ہے، نیا بلاک بن سکتا ہے‘‘ کیونکہ ویسے بھی یہ نئے بلاک بننے ہی کا زمانہ ہے جیسا کہ ہماری پارٹی میں بن چکا ہے بلکہ یہ سلسلہ جاری بھی ہے جس کا قلع قمع بھی کرتے رہتے ہیں مگر یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے کیونکہ یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے جبکہ ہماری پارٹی کچھ زیادہ ہی جمہوری واقع ہوئی ہے اس لئے نئے بلاک بننے کو ایک معمول کا معاملہ سمجھتی ہے بلکہ اب تو اپوزیشن نے اسے بلاک پارٹی بھی کہنا شروع کر دیاہے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ جتنے نام ہوں گے، برکت بھی اُسی حساب سے زیادہ ہوگی۔ آپ اگلے روز پاک افغان طورخم بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
خالی باتوں کا وقت گزر چکا، محکموں کو
اب کام کر کے دکھانا ہوگا: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''خالی باتوں کا وقت گزر چکا، اب محکموں کو کام کرکے دکھانا ہوگا‘‘ کیونکہ خالی باتوں کے لئے تین سال کافی ہوتے ہیں اور اس دوران کام کرنے کا وقت نہیں آیا تھا اس لئے کام کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی کیونکہ ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا ہوتا ہے؛ تاہم جو محکمے اب بھی کام نہیں کرنا چاہتے وہ خالی باتوں سے گریز کریں البتہ وہ ایسی باتیں کر سکتے ہیں جو خالی نہ ہوں۔ بصورتِ دیگر ہم اُن کے خلاف ایکشن لیں گے اور ایسے افسران کو تبدیل کر دیں گے جس کی اجازت وزیراعظم صاحب سے حاصل کر لی گئی ہے اور کئی اہم حضرات زیرِ تبادلہ بھی ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک کھلی کچہری سے خطاب کر رہے تھے۔
مجھ پر دوبارہ مقدمات بنانے
کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور نون لیگ کے ممتاز رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''مجھ پر دوبارہ مقدمات بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے‘‘ حالانکہ اگر محنت اور دانشمندی سے کام لیا جائے تو سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر والا مقدمہ ہی کافی تھا اور اب تک میں بھی دیگر لیگی رہنماؤں کی طرح ''سرخرو‘‘ ہو چکا ہوتا، اگرچہ مزید کا مواد بھی موجود ہے ؛تاہم یہ کام انہیں پہلے مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سرانجام دینا چاہئے تھا اس لئے میرے خلاف مزید مقدمات قائم کرنے کے منصوبے بنانے کے بجائے احتساب والوں کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے‘ مقدمات تو بعد میں بھی بن سکتے تھے۔ آپ اگلے روز نارووال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پیپلز پارٹی نے کرپشن کے ساتھ
نوکریاں فروخت کیں: فرخ حبیب
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ''پیپلز پارٹی نے کرپشن کے ساتھ نوکریاں فروخت کیں‘‘ حالانکہ یہ کام کرپشن کے بغیر بھی کیا جا سکتا تھا، نیز اس کے لیے اگر دیگر کئی ذرائع موجود تھے تو اس صاف ستھرے کام میں اس کی کیا ضرورت تھی۔ اگرچہ یہ بظاہر ایک رفاہی کام تھا جس کے لئے امیدواروں کی سندات کا بھی پتا نہیں کیا گیا کہ نقلی ہیں یا اصلی جبکہ ہم یہ کام سندات کے حوالے سے پوری تسلی کر لینے کے بعد ہی کیا کرتے ہیں مثلاً کئی نوکریاں دیتے ہوئے اس کا پورا پورا اہتمام کیا گیا تھا؛ تاہم بعد میں متعدد نوکریوں کو منسوخ بھی کیا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ایک اچھا کام قابلِ ا عتراض طریقے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور، اب ہڈالی سے گل فراز کی غزل:
اُس نے شروع میں تو دکھایا کچھ اور ہے
اور رفتہ رفتہ سامنے آیا کچھ اور ہے
ہونا کچھ اور چاہیے تھا پر ہوا نہیں
میں نے بنانا کچھ تھا، بنایا کچھ اور ہے
ظاہر کچھ اور کرنا تھا، ظاہر کسے کیا
یعنی چھپانا کچھ تھا، چھپایا کچھ اور ہے
رہ جائے تھوڑا سا تو بچاتا ہے ہر کوئی
اور، ایک میں ہوں جس نے لگایا کچھ اور ہے
درکار کوئی اور ہے مجھ کو ہمیشہ سے
لیکن یہاں ہمیشہ ہی پایا کچھ اور ہے
سچ تو یہ ہے کہ کام بھی مشکل تھا کچھ نہ کچھ
اور پھر کسی نے ہم کو ڈرایا کچھ اور ہے
حالانکہ چلنے والا نہیں تھا کسی طرح
لیکن یہ جیسے تیسے چلایا کچھ اور ہے
سارے ہی ملتے جلتے بیانات ہیں یہاں
ایسے میں مَیں نے جا کے بتایا کچھ اور ہے
آج کا مطلع
چار سُو پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں