نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
  • بریکنگ :- پونچھ سیکٹرمیں بھارتی افواج کی حراست میں پاکستانی شہری ضیامصطفیٰ کے قتل پراحتجاج
  • بریکنگ :- پاکستانی قیدی کاجیل سےدورپراسرارقتل سنگین سوالات اٹھاتاہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- بھارت کاماورائےعدالت قتل کایہ پہلاواقعہ نہیں ہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستانی اورکشمیری قیدیوں کےماورائےعدالت قتل کی مذمت کرتےہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکےانصاف کویقینی بنائے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی یاوطن واپسی تک ان کی حفاظت یقینی بنائے،ترجمان
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن، محمداظہارالحق اور افضال نوید

ہمارا بیانیہ ایک ہے، اس میں کوئی
تبدیلی نہیں آئی: نواز شریف
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''ہمارا بیانیہ ایک ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘ اورجب سے ہماری مفاہمت کی پالیسی کو گھاس نہیں ڈالی گئی‘ ہمارا بیانیہ پھر سے ایک ہو گیا ہے حالانکہ ملک میں گھاس کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ اس بار بارشیں افراط سے ہوئی ہیں اور ہر طرف گھاس ہی گھاس نظر آتی ہے حتیٰ کہ اگر کسی کی عقل گھاس چرنے گئی ہوئی تھی تو وہ بھی سیر ہو کر واپس آئی ہے؛ اگرچہ سیر ہو کر کھانے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے ؛تاہم سیر ہوئے بغیر کھانے کا مزا ہی نہیں آتا جبکہ عقل کی ضرورت بھی کبھی کبھار ہی پڑتی ہے اور ویسے بھی گزارہ ہوتا ہی رہتا ہے، ہیں جی؟ آپ اگلے روز مسلم لیگ نون منیارٹی ونگ کے صدر ایم این اے کھیل داس کوہستانی کے ساتھ فون پر گفتگو کر رہے تھے۔
معاشی لحاظ سے جلد عوام کو خوش
خبریاں ملیں گی: شوکت ترین
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ''معاشی لحاظ سے جلد عوام کو خوشخبریاں ملیں گی‘‘ لیکن یہ خود ہی اس قدر بدقسمت واقع ہوئے ہیں کہ ان پر ان خوشخبریوں کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا اور مہنگائی وغیرہ سے ان کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں حتیٰ کہ انہیں چیخنے چلانے کی عادت پڑ گئی ہے اور اگر وہ ہنس رہے ہوں‘ تب بھی یہی لگتا ہے کہ چیخ رہے ہیں، اس لئے پہلے انہیں اپنی اس عادت کو درست کرنا چاہئے، اگرچہ عادتیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں لیکن اگر مہنگائی بیروزگاری کا یہی عالم رہا تو بہت سی عادتیں بدلنے کی نوبت آ جائے گی ۔آپ اگلے روز مرکزی نائب صدر و منتظم مرکزی سیکرٹریٹ تحریک انصاف زاہد حسین کاظمی سے ملاقات کر رہے تھے۔
اپوزیشن آئندہ دو سال بھی اسی تنخواہ پر
کام کرتی رہے گی: مسرت جمشید چیمہ
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی چیئرپرسن مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن دو سال بھی اسی تنخواہ پر کام کرتی رہے گی‘‘ کیونکہ یہ ایک کم خرچ اور قناعت پسند ادارہ ہے، اور اس نے مہنگائی کا بھی کچھ زیادہ اثر نہیں لیا حالانکہ تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کے ہاتھوں تقریباً لاچار ہو چکا ہے لیکن اپوزیشن پر مہنگائی کا کوئی اثر نہیں پڑا اور صبر و استقامت سے آئندہ دو سال بھی اسی تنخواہ پر گزارہ کرتی رہے گی اور اس کا مقام و مرتبہ بھی تبدیل نہیں ہوگا اور یہ اسی طرح اپوزیشن کے منصب عالی پر فائز رہے گی جبکہ وہی قومیں اور پارٹیاں ترقی کرتی ہیں جو کفایت شعاری کو اپنا طرئہ امتیاز بنا لیتی اور فضول خرچی سے بچی رہتی ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہی تھیں۔
موجودہ حکومت نے ملک کو اندھیروں
میں دھکیل دیا: رانا تنویر
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ''موجودہ حکومت نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا‘‘ حالانکہ ملک اندھیروں میں جانے کیلئے ہرگز تیار نہیں تھا لیکن حکومت نے دھکا دے کر ایسا کیا ہے جو کہ بہت بری بات ہے البتہ ملک ہمارے دور میں پہلے ہی اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اور لوڈشیڈنگ نے عوام کی مت مار رکھی تھی اور ہمارے وزیراعلیٰ پنجاب آئے روز لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی تاریخیں دیا کرتے تھے کہ اگر فلاں تاریخ تک یہ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دیں؛ چنانچہ اُسی دوران انہوں نے کوئی پندرہ بیس مرتبہ یہ دعویٰ کیا اور ہر بار میعاد پوری ہونے پر وہ تاریخ تبدیل کر دیا کرتے تھے۔ آپ اگلے روز مریدکے میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں محمد اظہار الحق اور افضال نوید کی شاعری:
مالک زمینِ غم کا تونگر بہت ہوا
اس سال دل کی فصل میں پتھر بہت ہوا
ٹھپ ہو گئی دُکان ترے انتظار کی
نقصان کاروبار میں مر کر بہت ہوا
سب زائچے درست تھے سب ساعتیں سعید
بس اک ذرا خراب مقدر بہت ہوا
ندرت خیال کی ہے نہ بندش ہی چست ہے
یہ شعر غم کا پھر بھی مکرر بہت ہوا
بیٹے اسی زمین پہ رہتے رہے، مگر
حائل ہمارے بیچ سمندر بہت ہوا
(محمد اظہار الحق)
جب بھی شہر کو چھوڑ کے جانا پڑتا ہے
اپنا ملبہ آپ اُٹھانا پڑتا ہے
اپنی ہی بیڑی میں پتھر ہوتے ہیں
اور چپو بھی آپ چلانا پڑتا ہے
اور کہیں پر بہتی رہتی ہے ندی
اور کہیں پر ڈوبنے جانا پڑتا ہے
روز ہی اُجڑی رہتی ہے دل کی بستی
روز ہی اس بستی کو بسانا پڑتا ہے
اپنی قسمت آپ بنانی ہوتی ہے
اپنا چکر آپ چلانا پڑتا ہے
بدتر سے بھی بدتر ہو جاتا ہے وقت
پھر بھی اس کا ساتھ نبھانا پڑتا ہے
جائے وقوع پہ کوئی پہنچ نہیں پاتا
افواہوں سے کام چلانا پڑتا ہے
سامنے اس کا گھر ہے میرے گھر کے نویدؔ
راہ میں لیکن ایک زمانہ پڑتا ہے
(افضال نوید)
آج کا مطلع
چلو اتنی تو آسانی رہے گی
ملیں گے اور پریشانی رہے گی

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں