نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اوآئی سی اجلاس کی 17دسمبرکوپاکستان میں میزبانی کی پیشکش کرتےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- امیدہےاوآئی سی کےرکن پیشکش کی حمایت کریں گے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- افغانستان او آئی سی کا بانی رکن ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- افغانستان کواس وقت انسانی بحران کا سامنا ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کا ویڈیو بیان
  • بریکنگ :- افغان صورتحال پرسعودی عرب کی جانب سےاوآئی سی وزرائےخارجہ کااجلاس طلب
  • بریکنگ :- پاکستان افغان معاملےپرہنگامی اجلاس کی حمایت کرتاہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- لاکھوں افغان باشندےغیریقینی صورتحال کاسامناکررہےہیں،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- افغان عوام کومعاونت کی ضرورت ہے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- اوآئی سی کوافغان عوام کی مددکیلئےآگےآناہوگا، شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور تازہ غزل

عمران مشکل پچ پر نہیں کھیل سکتے
اگلی باری ہماری ہے: زرداری
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''عمران مشکل پچ پر نہیں کھیل سکتے، اگلی باری ہماری ہے‘‘ اور اس پچ کو انہوں نے خود ہی مشکل بنا رکھا ہے اور کرپشن کے خلاف شور مچا کر سارا کام ہی خراب کر دیا ہے، جس سے بڑے لوگ الگ خوفزدہ ہیں اور ریاست کا خاصا کام رکا ہوا ہے، سیاستدانوں کا الگ ناک میں دم کر رکھا ہے اور عوام الگ بیزار ہیں اور ساری فضا ہی تبدیل ہو گئی ہے جسے بحال کرنے کے لیے ہماری سخت ضرورت ہے جبکہ سب سے زیادہ آسان پچ بھی یہی ہے۔ آپ اگلے روز احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔
ملک جنات سے رہنمائی لینے کیلئے نہیں بنا: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''ملک جنات سے رہنمائی لینے کیلئے نہیں بنا‘‘ اور کچھ ایسا ہی بیان مریم نواز نے بھی دیا تھا جسے یہ بندہ دہرا رہا ہے کیونکہ حکومت کے خلاف جتنے بھی بیانات ہو سکتے تھے، ہم سب دے چکے ہیں اس لیے ان کی دہرائی شروع کی ہے جس کے لیے سابقہ سارے بیانات اکٹھے کر لیے گئے ہیں تا کہ شاید دہرائی ہی کا حکومت پر کوئی اثر پڑ جائے، نیز جنات سے بھی درخواست ہے کہ وہ ہمارا پنڈ چھوڑیں ہم نے ان کا کیا بگاڑا ہے۔ آپ اگلے روز پشاور میں شیرپائو، اچکزئی کے ہمراہ مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پی ٹی آئی حکومت میں کبھی سول ملٹری
تعلقات میں تنائو نہیں رہا: شبلی فراز
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''پی ٹی آئی حکومت میں کبھی سول ملٹری تعلقات میں تنائو نہیں رہا‘‘ کیونکہ ہم وضعدار لوگ ہیں اور صبر و استقامت کے ساتھ انتظار بھی کرتے ہیں اور اپنے ہی اداروں کے خلاف نہیں بولتے اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ صبر اور انتظار کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور وہ خدانخواستہ کسی وقت بھی عبور ہو سکتی ہے اس لیے ہمیں بھی اپنی فکر پڑی ہوئی ہے کیونکہ مہنگائی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہم اس پر قابو نہیں پا رہے بلکہ یہ ہم پر قابو پاتی جا رہی ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار ِخیال کر رہے تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے 25 ارب کے پریزن
پیکیج سے سب خوش ہیں: فیاض چوہان
وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ''وزیراعلیٰ پنجاب کے 25 ارب کے پریزن پیکیج سے سب خوش ہیں‘‘ جیل کے قیدیوں نے تو خوش ہونا ہی تھا، لوئر، مڈل کلاس اور غریب غربا سارے کے سارے جیل جانے کے لیے بیتاب ہو گئے ہیں کیونکہ انہیں باہر تو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی جبکہ جیل میں ایسا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے؛ چنانچہ غریب عوام کی سہولت کے لیے ہم صوبہ بھر میں جیلوں کا جال بچھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ انہیں کم از کم دو وقت کی روٹی تو نصیب ہو بلکہ مڈل کلاس کے لوگ بھی جیلوں کو لالچ بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوں گے کیونکہ ہم وہاں کئی دیگر سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم نے حکومت
کو ہر معاملے میں سپورٹ کیا: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ''پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم نے حکومت کو ہر معاملے میں سپورٹ کیا‘‘ اور ان کی ہر مخالفانہ تقریر سے لگتا تھا کہ ع
یہ تو چلتی ہے اسے اونچا اڑانے کے لیے
اور ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ میری روزانہ کی تقریریں بھی یہی گل کھلا رہی تھیں؛چنانچہ ہم نے تو فیصلہ کیا ہے کہ اب حکومت کے حق میں تقریریں کیا کریں گے اور اگر واقعی ہماری تقریروں کا اثر الٹا ہوتا ہے تو شاید اس طرح ہی گوہرِ مراد حاصل ہو سکے؛ چنانچہ پیپلز پارٹی والوں اور پی ڈی ایم کی رہی سہی جماعتوں سے بھی یہی گزارش کریں گے کہ حکومت کے حق میں تقریریں کیا کریں۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اور، اب آخر میں یہ تازہ غزل:
چپ چاپ، دل ہی دل میں پکارا، نہیں ملا
وہ ایک بار مل کے دوبارہ نہیں ملا
وہ دل سے قدر داں تھا ہمارا، اور اب بھی ہے
اس کے علاوہ کوئی اشارہ نہیں ملا
جس پر سے ڈوبنے کے لیے کود بھی سکیں
دریا تو مل گیا ہے، کنارہ نہیں ملا
دیوار جس کو سمجھے تھے، دیوار ہی نہ تھی
پھر اس میں کیا عجب جو سہارا نہیں ملا
اُس چاند کی چمک تھی کچھ اتنی کہ رات بھر
ہم کو فلک پہ کوئی ستارہ نہیں ملا
ہم خار و خس پڑے رہے یوں ہی تمام عمر
پتھر کو توڑ کر بھی شرارہ نہیں ملا
کافی رہا ہے اس کی توجہ کا شائبہ
تھوڑا سا مل گیا تھا جو سارا نہیں ملا
جو چوم ہی سکیں نہیں ماتھا وہ دستیاب
جو دیکھ ہی سکیں وہ نظارا نہیں ملا
جھانکا ہے اس کے دل میں تو ہم نے بہت، ظفرؔ
لیکن کہیں سراغ تمہارا نہیں ملا
آج کا مقطع
گلی گلی مرے ذرے بکھر گئے تھے ، ظفر
خبر نہ تھی کہ وہ کس راستے سے گزرے گا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں