نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 8 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 761 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 431 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 47 ہزار 84 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.91 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور تازہ غزل

جعلی احتساب کا ڈرامہ اب
ختم ہونا چاہیے: شہباز شریف
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''جعلی احتساب کا ڈرامہ اب ختم ہونا چاہیے‘‘ کیونکہ نہ تو ان کے پاس معقول پراسیکیوٹر ہیں اور نہ ہی کام کے وکیل، جبکہ ہم اپنے مقدمات میں قابل ترین اور مہنگے وکیل پیش کرتے ہیں جن کا مقابلہ سرکاری وکیل کر ہی نہیں سکتے اور اس طرح احتسابی ادارے ناکام ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنے وسائل میں اضافہ کریں تا کہ ہمارے مقابلے میں ماہر وکیل پیش کر سکیں ،یا پھر حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں ان کی مدد کرے ورنہ احتساب کی حیثیت ایک ڈرامے سے زیادہ نہیں ہو گی۔ آپ اگلے روز سید خورشید شاہ کو ضمانت منظور ہونے پر مبارکباد دے رہے تھے۔
اپوزیشن کے پاس کچھ نہیں، وہ
جمعہ جمعہ کھیل رہی ہے: شیخ رشید
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن کے پاس کچھ نہیں، وہ جمعہ جمعہ کھیل رہی ہے‘‘ حالانکہ دن سارے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں اور کسی ایک دن کو دوسروں پر ترجیح دینا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے اور چونکہ ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں اس لیے اپوزیشن کو چاہیے کہ اپنے کھیل کو سات دنوں میں تقسیم کر کے تا کہ برابری کے اصول پر بھی عمل ہو سکے اور کسی دن کے ساتھ زیادتی نہ ہو جبکہ جمعہ توویسے بھی مقدس دن شمار ہوتا ہے جسے کھیل تک محدود کر دینا اس کے ساتھ نا انصافی کے علاوہ بے ادبی بھی ہے، اس لیے اپوزیشن کے لیے بہتر ہے کہ وہ دنوں کے ساتھ یہ امتیازی رویہ ختم کر دے ۔ آپ اگلے روز اپوزیشن کی احتجاجی تحریک پر اپنا رد عمل ظاہر کررہے تھے۔
نواز شریف کی واپسی سے پوری
کابینہ کی ٹانگیں کانپتی ہیں: محمد زبیر
میاں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ''نواز شریف کی واپسی سے پوری کابینہ کی ٹانگیں کانپتی ہیں‘‘ حالانکہ موصوف کی واپسی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے بلکہ واپسی کے ذکر سے خود ان کو بھی ''کچھ کچھ ہوتا ہے‘‘ ورنہ وہ کب کے واپس آ چکے ہوتے اس لیے وزیراعظم، ان کی کابینہ اور نواز شریف، سب سے درخواست ہے کہ کانپنا چھوڑ کر ٹانگوں کو کوئی اور کام بھی کرنے دیں تا کہ کم از کم وہ پرائے پھٹے میں اڑانے کے قابل ہو سکیں جو ان کا اصل کام ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
اپوزیشن کو عدم اعتماد کے لیے
قریب آنا ہوگا: راجہ پرویز اشرف
سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن کو عدم اعتماد کے لیے قریب آنا ہوگا‘‘ اگرچہ ہم ان کے ساتھ شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک سطح پر ہماری افہام و تفہیم ہو چکی ہے؛ البتہ نواز لیگیوں کو ایک دوسرے کے قریب ضرور آنا چاہیے اور اگر مسلم لیگ کے دونوں دھڑے قریب آنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف چلتے رہے تو عدم اعتماد کی تحریک ایک خواب اور قصۂ پارینہ ہو کر رہ جائے گی؛ تاہم ہم حکومت کے خلاف بیانات کی بمباری بھی کرتے رہیں گے کیونکہ ہم نے عوام کو بھی منہ دکھانا ہے جو یہ کافی حد تک دیکھ چکے ہیں اور مزید دیکھنے کی تاب نہیں رکھتے۔ آپ اگلے روز عثمان ملک کے گھر ان کے برادرِ نسبتی مظہر حیات تارڑ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کر رہے تھے۔
غریب طبقے کا احساس اور آسانی پیدا
کرنا وزیراعظم کا مشن ہے: شہباز گل
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے کہا ہے کہ ''غریب طبقے کا احساس اور آسانی پیدا کرنا وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے‘‘ اور اگر غریب طبقہ روز بروز مزید مشکلات کا شکار ہو رہا ہے تو یہ سراسر اس کی بدقسمتی ہے اور قسمت کے لکھے کو حکومت تو کیا، کوئی بھی نہیں ٹال سکتا اور اس کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ تقدیر کے کاموں میں براہِ ر است مداخلت کے مترادف ہے، لہٰذا غریب طبقے کو وزیراعظم کے مشن کو ہی غنیمت سمجھنا چاہیے اور اپنی قسمت کی درستی کی دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ آپ اگلے روز مریم اورنگزیب کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں اس ہفتے کی تازہ غزل:
کچھ بھی آشفتہ بیانی میں نہیں ہو سکتا
لکھنا پڑتا ہے، زبانی میں نہیں ہو سکتا
جو بھی کرنا ہے وہ باہر سے ہی کرنا ہے مجھے
میرا کردار کہانی میں نہیں ہو سکتا
روک رکھا ہے محبت کا تماشا کہ یہ کام
خاص کر ایسی گرانی میں نہیں ہو سکتا
ایک ہی بات میں ہوتی نہیں باتیں ساری
ہر نشاں ایک نشانی میں نہیں ہو سکتا
اپنے اندر سے ہی جو زہر نمو کرتا ہے
وہ کسی دشمنِ جانی میں نہیں ہو سکتا
حوصلہ ہار کے بیٹھے ہیں تو بس بیٹھ گئے
ورنہ کیا عالمِ فانی میں نہیں ہو سکتا
یوں گزر جاتے ہیں کتنے ہی زمانے خالی
شعر بھی اب تو روانی میں نہیں ہو سکتا
وہ سلیقہ جو بڑھاپے کی عطا ہے یکسر
اس کا اظہار جوانی میں نہیں ہو سکتا
دل میں ہلچل جو مچی رہتی ہے دن رات ظفرؔ
یہ بھنور وہ ہے کہ پانی میں نہیں ہو سکتا
آج کا مطلع
طبعِ رواں کو لوگوں کی اپنی راہوں پر ڈال دیا
یوں تصویرِ سخن سے میں نے اپنا آپ نکال دیا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں