نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 8 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 761 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 431 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 47 ہزار 84 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 0.91 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن، الحمرا اور نذیر قیصر

داخلی سلامتی کی صورتحال سنگین
حکومت کہیں نہیں: شہباز شریف
قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''داخلی سلامتی کی صورتحال سنگین، حکومت کہیں نہیں‘‘ اور میں سب سے پہلے اپوزیشن کو حکومت کے نہ ہونے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، جو اس کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے کہ بالآخر یہ عظیم مقصد حاصل کرنے میں ہم کامیاب ہو گئے اور اس طرح ہم احتساب کیسز کے بعد اب عوام میں بھی سرخرو ہو گئے جبکہ میں نے تو کافی عرصہ پہلے کہہ دیا تھا کہ اس حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ یہ گنتی بالآخر آج مکمل ہو گئی ہے، اس لیے اب ہمیں اس کام سے فارغ ہو کر دوسرے اور غیر سیاسی معاملات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ آپ اگلے روز ٹویٹ کے ذریعے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
میں نے استعفیٰ نہیں دیا: جام کمال
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ ''میں نے استعفیٰ نہیں دیا‘‘ کیونکہ جب تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے امکانات موجود ہیں بلکہ یہ یقینی نظرآ رہا ہے تو پھر استعفیٰ دینے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ جو ارکانِ اسمبلی غائب تھے اور کہیں چھپے ہوئے تھے‘ وہ بھی میدان میں آ گئے ہیں اور ایک آئینی اور جمہوری عمل مکمل ہونے جا رہا ہے تو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے کیونکہ وزارتِ عُلیہ تو آنی جانی چیز ہے اور میں آئندہ الیکشن میں کامیاب ہو کر ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لیے وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں اور میں مخالف ارکان اسمبلی کی استقامت کی داد دیتا ہوں جو اپنے قول کے پکے ثابت ہو رہے ہیں۔ آپ اگلے روز چیئر مین سینیٹ اور وزیر دفاع پرویز خٹک سے ملاقات کر رہے تھے۔
غریب عوام مہنگائی اور بیروزگاری
کی آگ میں جل رہی ہے: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''غریب عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی آگ میں جل رہی ہے‘‘ اور عوام کو میں نے مونث اس لیے قرار دیا ہے کہ وہ نصف سے زیادہ تو پہلے ہی خواتین پر مشتمل ہیں اس لیے ان کو اکثریت کی بنا پر ایسا کہا ہے، نیز ''لیڈیز فرسٹ‘‘ کی بنیاد پر بھی ایسا ہی کہنا چاہیے، اس کے علاوہ ہمارے دل میں خواتین کا احترام بھی دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہے اور خدا لگتی بات بھی یہی ہے کہ اگر خواتین نہ ہوتیں تو ہمارا بھی کہیں وجود نہ ہوتا۔ علاوہ ازیں شاید حکیم الامت ہی نے یہ بھی کہہ ر کھا ہے کہ وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، وغیرہ وغیرہ۔ آپ اگلے روز لاہور میں خواتین یوتھ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
موجودہ حالات میں منفی سیاست کی گنجائش نہیں: بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''موجودہ حالات میں منفی سیاست کی گنجائش نہیں‘‘ اس لیے صرف چند روز مزید انتظار کر لیا جائے، اس کے بعد منفی سیاست کی گنجائش ہی گنجائش ہے جبکہ سیاست ہوتی ہی منفی ہے اور ہمارے ہاں رواج بھی اسی کا ہے اور جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکلتا اور انہیں ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے جبکہ سیاست میں اصل کام ہی گھی نکالنا ہے، اس لیے کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو سیدھی انگلیوں سے گھی نکالنے کی کوشش کرے گا، اور مثبت سیاست میں پڑ کر اپنا وقت ضائع کرے گا اور دوسروں کا بھی۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
ماہنامہ الحمرا
لاہور سے شاہد علی خان کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ جریدے کا تازہ شمارہ زیرِ نظر ہے جس میں حسبِ معمول معتبر قلمکاروں کی نگارشات شامل ہیں؛ مثلاً مضمون نگاروں میں مولانا حامد علی خان، پروفیسر فتح محمد ملک، محمد اکرام چغتائی، مستنصر حسین تارڑ، ستیہ پال آنند، ڈاکٹر اے بی اشرف، جمیل یوسف، ڈاکٹر سعادت سعید اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نمایاں ہیں۔ نظموں میں ستیہ پال آنند، اسلم انصاری اور دیگران، آپ بیتی اور متفرقات میں اسلم کمال، ڈاکٹر اختر شمار، ڈاکٹر غفور شاہ قاسم اور دیگران، سفرناموں میں یعقوب نظامی اورشیبہ طراز جبکہ غزالوں میں اس خاکسار کے علاوہ نذیر قیصر، اسلم انصاری اور دیگران، افسانہ نگاروں میں آغا گل و دیگران، مزاح نگاری میں جمیل گشکوری اور تبصرہ نگاروں میں پروفیسر حسن عسکری کاظمی، نسیم سحر، ڈاکٹر غفورشاہ قاسم، ڈاکٹر غافر شہزاد اور دیگران شامل ہیں۔
اور‘ اب اسی شمارہ میں شائع ہونے والی نذیر قیصر کی غزل:
پہلے میرا جہاں بنایا گیا
پھر مجھے خواب سے جگایا گیا
کوئی شہرِ طلسم تھا جس میں
رفتگان سے مجھے ملایا گیا
رات چھلکی تھی میرے پیالے سے
رات سے آسماں بنایا گیا
پھول پتے سنہری ہونے لگے
چاندنی کا شجر اُگایا گیا
ایک کھڑکی کہیں بنائی گئی
اِک پرندہ کہیں اڑایا گیا
وہ سمندر کو اوڑھ کر سوئی
بارشوں میں اسے جگایا گیا
پہلے اک رمز تھی، اشارہ تھا
پھر مجھے نام سے بلایا گیا
لوحِ خاکی پہ حرف اتارے گئے
پڑھنا لکھنا مجھے سکھایا گیا
ایک درویش پیڑ تھا اور میں
شام تھی اور دیا جلایا گیا
دوپہر کے سفید بادل میں
چاند کو سرمئی بنایا گیا
پانیوں میں اندھیرا بہتا تھا
پانیوں میں کنول کھلایا گیا
میں پیاسا تھا اور پیالے میں
تیرا چہرہ مجھے دکھایا گیا
آج کا مطلع
یہ فردِ جرم ہے مجھ پر کہ اُس سے پیار کرتا ہوں
میں اس الزام سے فی الحال تو انکار کرتا ہوں

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں