نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 60 کی دہائی میں ملکی معیشت تیزی سےترقی کررہی تھی،صدرمملکت
  • بریکنگ :- 60 کی دہائی کےپاکستانی معاشی ماڈل کومختلف ممالک میں اپنایاگیا،صدرمملکت
  • بریکنگ :- لوٹ مارکی وجہ سےپاکستان نیچےکی طرف گیا،صدرڈاکٹرعارف علوی
  • بریکنگ :- ترک صدرنےکہامہنگائی پوری دنیاکامسئلہ ہےعوام کوکیسےسمجھائیں،صدر
  • بریکنگ :- معاشی ترقی کےلیےبرآمدی صنعت کوفروغ دیناہوگا،صدرمملکت
  • بریکنگ :- پاکستان نےبہترین حکمت عملی سےکوروناچیلنج کامقابلہ کیا،صدرمملکت
  • بریکنگ :- پراپرٹی کےکیس میں 20،20سال مقدمات چلتےرہتےہیں،صدرمملکت
  • بریکنگ :- زمین کی قلت کی وجہ سےبڑی عمارتوں کوبناناپڑےگا،صدرمملکت
  • بریکنگ :- صدرمملکت کاعالمی پراپرٹی ہاؤسنگ وتعمیراتی نمائش کی اختتامی تقریب سےخطاب
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور تازہ غزل

حکومت نے عوام کا جینا مشکل
کر دیا ہے: شہبازشریف
قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف، نواز لیگ کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''حکومت نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے‘‘ اور ہماری حالت سے جس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ہم سے بڑھ کر عوام اور کون ہو سکتا ہے جبکہ ہم سے زیادہ عوام کی خدمت بھی کسی نے نہیں کی حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی پریشان کیا جا رہا ہے ہم نے جن کے ذریعے یہ خدمت سرانجام دی تھی جو ساتھ ساتھ حتی الوسع اپنی خدمت بھی کرتے رہے جس کا اندازہ ان کے اثاثوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس لئے ہمارے ساتھ ساتھ ان کا جینا بھی مشکل کر دیا گیا ہے اور اپنا جینا آسان کرنے کیلئے ہی ہم لندن جانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں بلوچستان کے سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کر رہے تھے۔
کچھ باتیں میڈیا پر نہیں بتا سکتا
ہاتھ بندھے ہوئے ہیں:اعظم سواتی
وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا ہے کہ ''کچھ باتیں میڈیا پر نہیں بتا سکتا، میرے ہاتھ بندھے ہیں‘‘یہ باتیں منہ سے نہیں بلکہ صرف اشاروں میں بتا سکتا تھا جس کیلئے ہاتھ کھلے ہونا ضروری ہیں اور ریلوے چھوڑ‘ہر محکمے کی صورتِ حال یہی ہے کہ نہیں بتائی جا سکتی لیکن میڈیا بھی اپنی کوشش میں لگا رہتا ہے اور ادھر ادھر سے کچھ باتیں معلوم کر ہی لیتا ہے جس کاناطقہ بند کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے اور اسی مصروفیت کی وجہ سے حکومت کا کوئی اور کام بھی نہیں ہو پا رہا؛ تاہم اگر وہ باتیں بتانے والی ہوتیں تو ہم خود ہی بتا دیتے جبکہ تشویش انگیز امر یہ بھی ہے کہ ہماری کوئی بات بھی ایسی نہیں ہوتی جو سرعام بتائی جا سکے اسی لئے ہر کوئی ان کے بارے میں اندازے لگاتا رہتا ہے۔ آپ اگلے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
حکومت سوا تین سال سے
ون ویلنگ کر رہی ہے: سراج الحق
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''حکومت سوا تین سال سے ون ویلنگ کر رہی ہے‘‘ حالانکہ یہ بہت خطرناک کام ہے اور حکومت گر کر زخمی بھی ہو سکتی ہے بلکہ اسے جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں اور کسی راہگیر کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کسی اور گاڑی سے بھی ٹکرا سکتی ہے، شکر ہے کہ میں سڑکوں پر ادھر ادھر گھومنے کے بجائے ایک ہی جگہ سے اپنی روزانہ کی تقریر جاری کر دیا کرتا ہوں؛ تاہم حکومت سے گزارش ہے کہ وہ ون ویلنگ کا یہ شوق بیشک پورا کرتی رہے لیکن اس کے ساتھ ایک کام ضرور کرے کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر ضرور اتار دیا کرے تاکہ دور ہی سے پتا چل جایا کرے کہ کوئی ون ویلنگ کرتا ہوا آ رہا ہے اور سب اپنا بچائو یقینی بنا لیں اور کوئی ناگوار حادثہ نہ ہونے پائے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔
موجودہ اپوزیشن ملکی تاریخ کی نالائق
ترین اپوزیشن ہے: حسان خاور
معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ ''موجودہ اپوزیشن ملکی تاریخ کی نالائق ترین اپوزیشن ہے‘‘ جو بقول خود‘ ایک نااہل حکومت کا اب تک بال تک بیکا نہیں کر سکی اور حکومت اس صورتحال سے خوب لطف اندوز ہو رہی ہے مگر افسوس کہ اپوزیشن کو کوئی سمجھانے والا نہیں ہے کہ ایسی حکومت کو کم سے کم مدت میں کس طرح گھر بھیجا جا سکتا ہے اور وہ حکومت کے خلاف پھوکے نعرے لگانے میں مصروف ہے اور اس طرح اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہی ہے حالانکہ اسے وقت کی قدر کرنی چاہئے اور وہ صحیح کام صحیح طریقے سے کرنے کے بجائے غلط طریقے سے کر رہی ہے۔ آپ اگلے روز اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے دورہ کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔
ہمیں پیغام دیا گیا کہ عمران کے ساتھ
گزارہ کر لیں: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''ہمیں پیغام دیا گیا کہ عمران خان کے ساتھ گزارہ کر لیں‘‘ جس پر ہمارا جواب تھا کہ ہم تو اس کے ساتھ پہلے ہی گزارہ کر رہے ہیں اور ہماری بے مقصد بھاگ دوڑ کی وجہ سے ہی وہ قائم و دائم ہیں اور اپنی مدت پوری کر رہے ہیں بلکہ کوئی اچھا سا پیغام ہمیں بھی دیں کہ ہم پر نظرِ کرم کب ہوگی اور کیا ہم اسی طرح سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہیں گے۔ اور نہیں تو ہمیں کم از کم اتنا اشارہ ہی کر دیں کہ ہم یہ سعیٔ لاحاصل ترک کرکے گھر چلے جائیں حالانکہ اب تو گھر والے بھی اعتراض کر رہے ہیں اور یہ کہ کیا ہم نے ان سے پوچھ کر یہ گھاٹے کا سودا شروع کیا تھا؟ آپ اگلے روز کوئٹہ میں علماء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں یہ تازہ غزل:
کسی شور و شر، کسی ہائو ہو کے بغیر ہے
وہ مکالمہ کہ جو گفتگو کے بغیر ہے
مرا برگ برگ تری ہوا کو ترس گیا
وہ چمن ہوں جو کسی رنگ و بو کے بغیر ہے
یونہی ساتھ ساتھ رہے گا آخری سانس تک
یہی عشق جو تری آرزو کے بغیر ہے
ہوں جدھر بھی تیری مسافرت میں رواں دواں
وہ طرف کہیں مرے چار سو کے بغیر ہے
جو شناخت اس کی ہوئی تو ہو گی اسی سبب
یہ مماثلت کسی ہو بہو کے بغیر ہے
مرا کاسہ اس کی نظر میں ہے وہ جہاں بھی ہو
یہ گداگری مری کو بہ کو کے بغیر ہے
کوئی جلوہ ہے کسی آئنے سے ہٹا ہوا
یہاں جو بھی کچھ ہے وہ رو برو کے بغیر ہے
وہ ملا اگر تو ملے گا خود ہی کہیں‘ ظفرؔ
یہ تلاش بھی کسی جستجو کے بغیر ہے
آج کا مقطع
جس جگہ جتنی بھی گنجائش میسر تھی ظفرؔ
ہم نے باہر کا اندھیرا اپنے اندر رکھ لیا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں