نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این اے 75 ڈسکہ،دھاندلی میں ملوث افسران کیخلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ
  • بریکنگ :- دھاندلی میں ملوث افرادکیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائےگی، الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےمتعلقہ شعبوں سےفوجداری شکایات کاڈرافٹ مانگ لیا
  • بریکنگ :- محکمانہ کارروائی کیلئےانکوائری کمیٹیوں کی تشکیل کیلئےسفارشات طلب
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کی 7روزمیں سفارشات منظوری کیلئےپیش کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- دھاندلی میں ملوث کوئی افسرآئندہ انتخابی ڈیوٹی پرمامورنہ ہو، الیکشن کمیشن
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور شکیلہ جبیں

قوم انصاف کی منتظر، ہمیں سکیم کے
تحت نشانہ بنایا گیا: شہبازشریف
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف، نواز لیگ کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''قوم انصاف کی منتظر، ہمیں سکیم کے تحت نشانہ بنایا گیا‘‘ جبکہ انصاف وہ ہو‘ جسے ہم انصاف کہتے ہیں، ورنہ قوم کا انصاف کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ نیز ہمیں باقاعدہ سکیم کے تحت نشانہ بنایا گیا یعنی پہلے ہمارے اثاثوں کا حساب لگایا گیا اس کے بعد یہ دریافت کیا گیا کہ یہ اثاثے بنائے کس طرح گئے ہیں،اسی پر بس نہیں بلکہ کمیشن اور منی لانڈرنگ کے سارے شواہد اکٹھے کئے گئے اور اس طرح ایک سکیم تیار کرکے ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی۔ آپ اگلے روز لاہور سے ٹویٹر پر ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
جیل ملازمین کے پے سٹرکچر میں بہتری
عظیم کارنامہ ہے: فیاض الحسن چوہان
وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ''جیل ملازمین کے پے سٹرکچر میں بہتری ایک عظیم کارنامہ ہے‘‘ تنخواہوں میں ملازمین کا گزارہ بڑی مشکل سے ہو رہا تھا اور انہیں معمولی معاوضے پر قیدیوں کو مختلف قسم کی سہولتیں مہیا کرنا پڑتی تھیں جن میں اسلحہ، منشیات اور موبائل فون رکھنے کی اجازت وغیرہ شامل تھی اور جس سے جیلوں کا ماحول گھر جیسا ہی ہو گیا تھا، اس کے باوجود ان کا گزارہ مشکل ہی سے ہو رہا تھا؛ چنانچہ ان کی تنخواہوں میں معقول اضافہ کردیا گیا ہے تاکہ وہ قیدیوں کو کھلے دل سے مطلوبہ سہولتیں فراہم کر سکیں جبکہ حکومت اس طرح کے مزید عظیم کارنامے بھی سرانجام دے رہی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
وزیراعظم انتخابات سے پہلے گھر
چلے جائیں گے: منظور وسان
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر نائب صدر اور سندھ حکومت کے وزیر برائے زراعت منظور وسان نے کہا ہے کہ ''وزیراعظم انتخابات سے پہلے گھر چلے جائیں گے‘‘ اگرچہ کافی عرصے سے میری کوئی بھی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں پیشگوئیاں کرنا ہی بند کردوں جبکہ میری تعیناتی بھی اسی میرٹ پر کی گئی ہے اور ہماری پارٹی کو ایسی خوش آئند پیشگوئیوں کی ضرورت بھی رہتی ہے اور آپ دیکھیں گے کہ میری اس پیشگوئی پر بھی پارٹی میں مٹھائیاں تقسیم ہونا شروع ہو جائیں گی جبکہ وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے ہمارے باقی حربے بُری طرح ناکام ہو کر رہ گئے ہیں۔ آپ اگلے روز وسان ہائوس خیر پور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت
میں استحکام آتا ہے: فرخ حبیب
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ''آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت میں استحکام آتا ہے‘‘ اور اشیائے ضرورت آسمان سے باتیں کرنا شروع کر دیتی ہیں جبکہ بے جان اور بے زبان چیزوں کا باتیں کرنا، اور وہ بھی آسمان سے،کوئی معمولی بات نہیں ہے، اور یہ کسی کرشمے سے کم نہیں ہے جس کا سارا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے لیکن حکومت نے اپنے کارناموں پر کبھی غرور نہیں کیا جبکہ وہ اپنے عجز اور انکسار ہی میں سارے کام نمٹا رہی ہے،بلکہ ایک طرح سے آئی ایم ایف ہی ہے جو سارے کام نمٹا رہا ہے جس کے ہر معاہدے کے بعد قیمتوں میں استحکام آنا شروع ہو جاتا ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کر رہے تھے۔
نظریۂ ضرورت اور قومی مفاد
کب تک چلے گا: جاوید لطیف
نواز لیگ کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ''نظریۂ ضرورت اور قومی مفاد کب تک چلے گا‘‘ جبکہ نظریۂ ضرورت تو ہماری ہی یادگار ہے جس کے مطابق ہم حسبِ ضرورت مثلاً جسٹس قیوم سے اپنی پسند کا فیصلہ کروا لیا تھا جبکہ قومی مفاد کی اصطلاح حال ہی میں شروع ہوئی ہے کیونکہ گزشتہ ادوار میں صرف ذاتی مفاد ہی جاری و ساری رہا ہے اور قومی مفاد جیسی کسی چیز کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس بار اقتدار میں آکر یہ شوشہ بھی ختم کر دیں گے کیونکہ کام صرف ذاتی دلچسپی اورمفاد کے تحت ہی ہو سکتا ہے جس کی روشن مثالیں ہم نے قائم کر رکھی ہیں جبکہ موجودہ حکومت کیلئے بھی یہ ایک سبق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔
اور‘ اب شکیلہ جبیں کے مجموعۂ کلام ''رب کھیڈاں کھیڈدا‘‘ سے یہ نظم:
اوہ تے جتیا جتایا
جس دِتی سی حیاتی میرا اوہدے نال چِھنج
اوہ تے جتیا جتایا، میں ہاراں ہُن کِنج
مینوں چُک چُک مارے داء کھیڈدا اے سارے
ہتھ پھڑ کے اُٹھاوے ویندا لاہ لاہ ڈِنج
مینوں ویلنے چہ ٹور، کڈھ دیندا پکے روڑھ
مینوں دھر کے مشین، وانگ رُوں دیندا پِنچ
راہ اپنی جے پھڑاں میں ڈِگ ڈِگ مراں
سدھی کر میری راہ، کہندا انج نئیں اِنج
جد چھنکن ساہواں وچوں نکلن ہاواں
مینوں دے دے تپ سارا پانی لیندا سِنج
اُوس دتی تے میں جری میں تے ڈر، ڈر مری
اَج مر جَد اُٹھی، میں جِت گئی جِنج
اوتے جتیا جتایا، میں ہاراں ہُن کِنج
آج کا مقطع
ظفر‘ آنکھیں کھلی رکھنا
تماشا ہو بھی سکتا ہے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں