نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: نئے بلدیاتی قانون کےخلاف سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کا دھرنا
  • بریکنگ :- کراچی: صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ اور دیگر دھرنے میں پہنچ گئے
  • بریکنگ :- حکومتی مذاکراتی ٹیم سےبات چیت کا سلسلہ جاری رہا،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:آج ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہمارا کافی ایشو پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،ناصر حسین شاہ
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور بہاولنگر سے سید عامر سہیل

ہم نے وطن عزیز کی آزادی کیلئے
قربانیاں دی ہیں: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''ہم نے وطن عزیز کی آزادی کیلئے قربانیاں دی ہیں‘‘ اب چونکہ ملک کو قرض خواہ ملکوں کا غلام بنا دیا گیا ہے تو ہم موجودہ حکومت کو گرا کر اسے آزاد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اسی طرح میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ملکوں ملکوں جا کر کشمیر کو آزاد کرانے کی کوشش کر تا تھا اور اب ملک کو بیروزگاری سے آزاد کر رہا ہوں جس کیلئے پہلا ہدف میں خود ہوں کیونکہ ملک کا سب سے بڑا بے روزگار میں ہوں اس لئے ابتدا اپنے آپ سے کر رہا ہوں۔ آپ اگلے روز کراچی میں کارکنوں سے ملاقات اور ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
پیپلزپارٹی سندھ کو پیچھے دھکیل
رہی ہے: ارباب غلام رحیم
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ ''پیپلزپارٹی سندھ کو پیچھے دھکیل رہی ہے‘‘ اور یہ کام وہ اس وقت سے کر رہی ہے جب میں وزیراعلیٰ تھا لیکن چونکہ اسے کافی پیچھے دھکیلا جا چکا ہے اس لئے اب مزید پیچھے دھکیلنے کی گنجائش نہیں بلکہ اسے اب آگے دھکیلنے کی ضرورت ہے جس کیلئے میں سر توڑ کوشش کر رہا ہوں اور اس ٹوٹے ہوئے سر کے ساتھ ہی ساری جدوجہد کر رہا ہوں جس کی داد مجھے ہر حالت میں ملنی چاہئے پیشتر اس کے کہ سارا جسم ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے‘ جبکہ کمر تو مہنگائی نے پہلے ہی توڑ رکھی ہے اس لیے صورتحال خاصی تشویش ناک ہے۔ آپ اگلے روز حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
دنیا جانتی ہے حکومت کس کی بیساکھی
کے سہارے کھڑی ہے: مرتضیٰ وہاب
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ''دنیا جانتی ہے کہ حکومت کس کی بیساکھی کے سہارے کھڑی ہے‘‘ اور اس محتاجی سے بچنے کیلئے اسے کم از کم بیساکھی تو اپنی خریدنی چاہئے جبکہ ہم جس بیساکھی کے سہارے کھڑے ہیں وہ ہماری اپنی ہے اور پرانی ہو جانے پر اسے پھر سے نئی بیساکھی سے بدل لیتے ہیں اور یہ سب ہمارے اپنے کارخانے میں بنائی گئی ہیں جبکہ ان کی اکثر اوقات ضرورت پڑتی رہتی ہے، اس لئے اگر وفاقی حکومت چاہئے تو برائے نام قیمت پر اسے ایک نہایت قابلِ کار بیساکھی مہیا کر سکتے ہیں۔ مفت اس لئے نہیں دے سکتے کہ کچھ وجوہ ہیں کہ اب مالی حالات پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔ آپ اگلے روز وفاقی وزیر فواد چودھری کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔
ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتا
نہیں کریں گے: وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ''ترقیاتی منصوبوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے‘‘ بلکہ پبلک کی سہولت کیلئے ہم ایک فہرست جاری کر رہے ہیں کہ جن جن منصوبوں پر سمجھوتا کیا جا سکتا ہے تاکہ متعلقہ حلقے اپنے آپ کو اُن تک محدود رکھیں اور دیگر منصوبوں میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہ کریں؛ تاہم جن مزید منصوبوں پر سمجھوتا کیا جا سکتا ہے ہم وقتاً فوقتاً ان کی بھی نشاندہی کرتے رہیں گے جبکہ بعض منصوبے ایسے بھی ہیں جن پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا جن میں ترقیاتی منصوبے بطورِ خاص شامل ہیں جن میں قاعدے کے مطابق معزز ارکان بھی حصہ دار ہوتے ہیں جو ان کی مقررہ شرح کے مطابق ہوتا ہے۔ آپ اگلے روز کوئٹہ شہر کے بغیر پروٹوکول دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
پاکستان کے انتخابی نظام کے کسی قانون
کو بدلنے کی ضرورت نہیں: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''پاکستان کے انتخابی نظام کے کسی قانون کو بدلنے کی ضرورت نہیں‘‘ جبکہ ہم ان پر پہلے ہی پوری طرح عمل کر رہے ہیں اور مفت بری سے کام نہیں لے رہے بلکہ ووٹرز کو دو‘ دو ہزار دے کر ان کی مالی امداد بھی کر رہے ہیں جومہنگائی کے اس دور میں ان کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں اور جن سے ووٹ کی عزت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ہمارے قائد کے اس فرمان کی بھی کہ ووٹ کو عزت دو، جس سے ووٹر کو اپنی قدرو قیمت کا بھی احساس رہتا ہے کہ مفت میں اس کا استحصال نہیں کیا جا رہا اور اگر خدا نے توفیق دی تو اس اعزازیے کی رقم بڑھائی بھی جا سکتی ہے کیونکہ ووٹ کو تو جتنی عزت دی جائے‘ کم ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں بہاولنگر سے سید عامر سہیل کی یہ غزل:
وہ خرچ ہوئی، ہم دان ہوئے
اس عشق میں سو نقصان ہوئے
دکھ بھول گئے، سکھ بھول گئے
ہم اندر سے سُنسان ہوئے
جب تم پر کچی نیند ہنسی
جب شعر ہمیں وردان ہوئے
اے مٹی یہ اندھیر ہے کیا
اے مورت ہم ہلکان ہوئے
جب پایل پایل عمر ڈھلی
جب کاجل نافرمان ہوئے
جب اسپ سوار تھے جوبن پر
جب جسموں کے اوزان ہوئے
جب آنکھوں کے پکھراج پسے
جب سرخ سفاری لان ہوئے
جب رات پڑی‘ جب گھات پڑی
جب اشک ترے مہمان ہوئے
وہ حوروں اور زبوروں میں
ہم عبد ہوئے، انسان ہوئے
آج کا مطلع
ذرا بھی فرق نہیں ہو بہو دھڑکتا ہے
یہ دل نہیں مرے سینے میں تُو دھڑکتا ہے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں