نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ایبٹ آباد:لیگی رہنمامرتضیٰ جاویدعباسی کوروناکاشکار
  • بریکنگ :- ایبٹ آباد:مرتضیٰ جاویدعباسی نےخودکوگھرمیں قرنطینہ کرلیا
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن، ادریس بابر اور مسعود احمد

عوام کے حقِ حاکمیت پر کوئی سودے بازی
نہیں کرنے دیں گے: آصف زرداری
سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''عوام کے حقِ حاکمیت پر کوئی سودے بازی نہیں کرنے دیں گے‘‘ کیونکہ یہ ہمارا حق ہے اور اسے کوئی استعمال نہیں کر سکتا؛ اگرچہ بعض فیصلے ہمیں بہت مہنگے پڑے ہیں لیکن کوئی بات نہیں۔ روپیہ پیسہ ہاتھ کا میل ہے اور ہاتھ ہر وقت میلا ہی رہتا ہے بلکہ ہم خود بھی اسے میلا کرتے رہتے ہیں اور جہاں تک عوام کے حقِ حاکمیت کا تعلق ہے تو یہ دراصل ہمارا ہی حق ہے جس کی ویسے تو باریاں مقرر ہیں لیکن اس میں بھی خلل اندازی ہونے لگی ہے اور ہاتھ مزید میلے ہونے کے امکانات کم ہو کر رہ گئے ہیں۔ آپ اگلے روز پارٹی کے 54ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پیغام جاری کر رہے تھے۔
سیاست عمران خان کے بس کی
بات نہیں: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''سیاست عمران خان کے بس کی بات نہیں‘‘ کیونکہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں‘ یہی سیاست ہے اور مسلسل سڑکوں پر رہنا حکومت کیلئے ہرگز ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ ہم حکومت میں نہیں ہیں لیکن چونکہ ہم حکومت کو گرانے میں لگے ہوئے ہیں‘ اس لئے ہمیں حکومت سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا اور سڑکیں ہماری رگ و پے میں اس حد تک سما چکی ہیں کہ ہم نے اگلی حکومت کو بھی گرانے کیلئے کمرِ ہمت ابھی سے کس کر باندھ لی ہے جس سے ہماری مستقل مزاجی اور عزم و ہمت کا اندازہ بھی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ اگلے روز سکھر میں جے یو آئی کے صوبائی صدر اور دیگر رہنمائوں سے ملاقات کر رہے تھے۔
نون لیگ اور پی پی سیاست میں پیسہ لائیں: شبلی فراز
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''نون لیگ اور پی پی سیاست میں پیسہ لائیں‘‘ بلکہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ انہوں نے سیاست میں سے پیسہ نکال کر اپنی بوریاں بھریں جو کہ بوریوں کا نہایت غلط استعمال ہے اور چونکہ ساری کی ساری بوریاں انہوں نے اس کام پر لگا دی تھیں اس لئے بہت ساری گندم چوہے کھا گئے۔ اگرچہ کہیں کہیں وہ اتنے ہنر مند تھے کہ بوریوں میں سے بھی گندم نکال کر کھا گئے اور کسی بلی نے آج تک ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا جبکہ ہم سیاست اور ملک سے پیسہ نکالنے کے بجائے باہر سے لا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مانگے تانگے ہی کا ہے اور بوریاں چونکہ بہت کمیاب ہو گئی ہیں اس لئے اسے بینکوں ہی میں رکھوایا جا رہا ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
حکومت نے عوام سے ہر سکھ چھیننے کا
مصمم ارادہ کر رکھا ہے: حمزہ شہباز
پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ''حکومت نے عوام سے ہر سکھ چھیننے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے‘‘ اور شکر ہے کہ ابھی صرف ارادہ ہی کیا ہے اور یہ کام اس نے انھی شروع نہیں کیا ورنہ عوام کو بہت مشکل پیش آتی۔ اگرچہ عوام کے پاس کوئی سکھ بچا ہی نہیں تھا اور سارا سکھ جمع کرکے لندن اور دیگر ممالک میں جمع کیا جا چکا تھا اس لئے اسے پہلے ایسے سکھ تلاش کرنا پڑیں گے جو دستبرد سے بچ گئے ہوں اور جنہیں حکومت ختم کر سکتی ہے، ویسے اب عوام دکھوں کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ سکھ ان کیلئے سرا سر ایک اجنبی چیز ہو کر رہ گئے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
دوسروں کی پگڑی اچھالنا نون لیگ
کا پیشہ ہے: حسان خاور
معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب و ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے کہا ہے کہ ''دوسروں کی پگڑی اچھالنا نون لیگ کا پیشہ ہے‘‘ اور چونکہ پگڑی باندھنے کا رواج کم بلکہ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے اسی لئے نون لیگ کے لیے اچھالنے کیلئے پگڑی پوش افراد کی تلاش ایک دردِ سر ہی کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ایسے مشکل کام کو پیشے کے طور پر اختیار کرنا ویسے بھی کوئی عقلمندی نہیں ہے‘ اس لئے اُسے چاہئے کہ اپنی سہولت کیلئے ٹوپی پوش افراد کو اپنا ہدف بنائے اور ٹوپیاں اچھالنا شروع کر دے تاکہ مصروفیت کی کوئی نہ کوئی صورت دستیاب ہوتی رہے یا پھر حامد کی ٹوپی محمود کے سر پر رکھنے کا کام شروع کر دے جبکہ ہم صرف اپنے کھوٹے سکے اچھالتے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں ادریس بابر کا عشرہ اور مسعود احمد کی غزل
پردہ آہٹ پہ جس کی چونکا ہے
گمشدہ اِک سمے کا جھونکا ہے
کہیں اندر سے مسکراتا ہے
کوئی گلداں تک آتا جاتا ہے
کھیلتا ہے شریر بالوں سے
دم الجھتا ہے اب بھی گالوں سے
لطف ہے بن کے دھول ملنے میں
خاک شامل ہے پھول کھلنے میں
خفتہ خوشبو میں رنگ اپنے ہیں
جاگنے والے ... میرے اپنے ہیں
٭......٭......٭
کچے مکاں‘ برابری پکے مکان کی
ہمسائیگی عجب ہے زمیں آسمان کی
الجھا ہوا ہوں کب سے اسی داستان میں
گم ہو رہی ہے کوئی کڑی درمیان کی
ان گھنٹیوں پہ تبصرہ اب اور کیا کریں
سنتے ہی کب ہیں اونٹ کسی ساربان کی
ماحول کا اثر ہے درختوں پہ آج کل
سنتے نہیں ہیں بات کوئی باغبان کی
اک اک قدم اٹھانا ہے مہماں سے پوچھ کر
اوقات کیا ہے اپنے ہی گھر میزبان کی
آج کا مطلع
غزل کا شور ہے اندر پرانا
بہت گونجے گا یہ پیکر پرانا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں