نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:پی ٹی آئی کی سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کااجلاس طلب
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کل دن 3 بجےہوگا،ذرائع
  • بریکنگ :- اجلاس میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق امورپرغورہوگا،ذرائع
  • بریکنگ :- بڑےشہروں کےمیئرزکےناموں پرمشاورت ہوگی،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان پارٹی معاملات پرگائیڈلائنزدیں گے،ذرائع
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور ڈاکٹر تحسین فراقی

23مارچ کو مہنگائی مارچ‘ استعفوں کا فیصلہ
وقت آنے پر کریں گے: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''23مارچ کو مہنگائی مارچ ‘ استعفوں کا فیصلہ وقت آنے پر کریں گے‘‘ اور وہ وقت کب آتا ہے‘ آتا بھی ہے یا نہیں‘ اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے، حتیٰ کہ استعفوں کے فیصلے کا وقت کئی بار آکر پلٹ گیا اور ہم دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے اور میں اپنے بیٹے کا استعفیٰ بھی اسی لیے نہیں دلوا سکا۔ اسی طرح تحریک عدم اعتماد کا وقت بھی آیا اور آتے ہی پلٹ گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے وقت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہے۔ یہاں تک کہ یہ مارچ کا بھی دن اور وقت نہیں کیونکہ 23مارچ تو قومی یکجہتی کا دن ہے اور اس دن یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا۔ آپ اگلے روز پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
اپوزیشن نے اپنی بدبو دار سیاست دیکھ لی: شہباز گل
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن نے اپنی بدبو دار سیاست دیکھ لی‘‘ حالانکہ بدبو اور خوشبو دیکھی نہیں بلکہ صرف سونگھی جا سکتی ہیں اور یہ ان کی ایک اضافی خوبی ہے کہ یہ سونگھنے کا کام بھی آنکھوں سے لے سکتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ دیکھنے کا کام ناک سے بھی لے سکتے ہوں۔ اگرچہ تفصیل کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اپنے کون کون سے اعضا سے اضافی کام لے سکتے ہیں؛ چنانچہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ سر کے بل چل بھی سکتے ہوں اور کانوں سے آواز بھی نکال سکتے ہوں اور ہاتھوں سے چکھ بھی سکتے ہوں‘ واللہ اعلم بالصواب۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی
سے ہوگا: بلاول بھٹو زرداری
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی سے ہوگا‘‘ جبکہ وزیراعظم کا اپنی پارٹی سے ہونے کا اعلان ہم پہلے ہی کر چکے ہیں۔ سو‘ اب باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا اعلان کرنا باقی ہے جو ہم باری باری کرتے رہیں گے۔ البتہ صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کے حوالے سے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی حالت بھی خاصی مخدوش ہے کیونکہ اس کے حصے کا پیسہ مبینہ طور پر عوام کے بجائے عوامی نمائندوں پر خرچ ہو رہا ہے جو عوام ہی کی نمائندگی کر رہے ہیں‘ اس لیے اصولی طور پر عوام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اصولوں پر عمل کرنے کا رواج ہی نہیں۔ آپ اگلے روز لاہور سے ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کر رہے تھے۔
آئندہ چار ماہ میں روپیہ مستحکم اور
مہنگائی کم ہو جائے گی: شوکت ترین
وفاقی مشیرِ خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئندہ چار ماہ میں روپیہ مستحکم اور مہنگائی کم ہو جائے گی‘‘ اس لئے اب صرف 4ماہ کیلئے عوام کو مہنگائی برداشت کرنا پڑے گی۔ اول تو تب تک لوگ اس کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ انہیں اس کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اس کے کم ہونے سے عوام کے معمولات پر ناگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ انہیں زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کا تردد اور تکلفات اٹھانا پڑیں گے‘ اس لیے ہماری اصل کوشش تو یہی ہے کہ عوام کے معمولات میں دخل اندازی نہ ہونے پائے اور ان کی گاڑی اسی طرح چلتی رہے‘ جیسی کہ ہماری چل رہی ہے۔ کم از کم ہمارا اپنا خیال یہی ہے کہ یہ چل رہی ہے۔ آپ اگلے روز پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں ڈاکٹر تحسین فراقی کی شاعری
یہ طرزِ تماشا جو ستم بھی ہے غضب بھی
اور اس پہ قیامت یہ تری سانولی چھب بھی
منہ پھیر کے چل دینا تو آسان بہت ہے
لیکن کوئی عذر اس کا، کوئی اس کا سبب بھی
مہ پاروں کو مژدہ ہو کہ تا روزِ قیامت
شیشہ بھی ہے موجود، سلامت ہے حلب بھی
ثابت ہوئے یارانِ سفر کتنے ستم گار
تذلیل بھی کرتے ہیں‘ تعاون کی طلب بھی
اک عمر سرابوں کے تعاقب میں گنوا دی
جینے کا نہ اب تک ہمیں آیا کوئی ڈھب بھی
جب رات نگلنے ہی کو تھی نائو کو منجدھار
یاد آنے لگا یاروں کو بھولا ہوا رب بھی
کچھ اپنا زمانے نے بگاڑا نہیں، افسوس
ہیں ان دنوں جس طرح کے، ایسے ہی تھے جب بھی
٭......٭......٭
بیتاب تھے دیکھیں حدِ معدوم سے آگے
کچھ بھی نہ سجھائی دیا معلوم سے آگے
ظالم! یہ پہنچتی ہے معاً عرش بریں تک
فریاد ہے مظلوم کی مظلوم سے آگے
ہرگز کسی مکتب میں سکھائی نہیں جاتی
تحریر نگاہوں کی ہے مرقوم سے آگے
بڑھتا ہوا سیلاب تھا اک دھند کا ہر سمت
بے سمت ہوا قافلہ معلوم سے آگے
جو کچھ مری تقدیر میں لکھا تھا سو پایا
کچھ کم نہ زیادہ ملا مقسوم سے آگے
مخفی ہیں کئی لعل و گہر شہر میں اس کے
اے ناقدِ کم بیں! ذرا مفہوم سے آگے
مرحوم کے شجرے میں تھے کیا کیا مہ و انجم
اب سلسلہ صفر ہے مرحوم سے آگے
آج کا مطلع
شکوہ و شکر نہ کچھ عرض گزاری رہے گی
غیر مشروط محبت ہے یہ جاری رہے گی

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں