نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کامعاملہ
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت کی پہلےمرحلےمیں 4ڈویژنزمیں انتخابات کرانےکی تجویز
  • بریکنگ :- ڈی جی خان،ملتان،بہاولپوراورگوجرانوالہ ڈویژنزمیں انتخابات کی تجویز
  • بریکنگ :- لاہور:وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب نےمنظوری دےدی
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت یکم فروری کوالیکشن کمیشن کوباضابطہ تجویزپیش کرےگی،ذرائع
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت پہلےمرحلےمیں 4ڈویژنزمیں انتخابات کی تجویزدےگی،ذرائع
  • بریکنگ :- لاہور:تجویز پرحتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا ،ذرائع
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت 15مئی کوانتخابات کےپہلےمرحلےکااعلان کرچکی ہے
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور علی شیراز کی غزل

کوئی نگران سیٹ اپ نہیں آ رہا، مہنگائی
چار ماہ میں ختم ہو جائے گی: شیخ رشید
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ''کوئی نگران سیٹ اَپ نہیں آ رہا، مہنگائی چار ماہ میں ختم ہو جائے گی‘‘ اور نگران سیٹ اَپ اس لیے نہیں آ رہا کہ یہاں کسی چیز کی نگرانی کا کوئی رواج ہی نہیں ہے جبکہ حکومت تو کسی قسم کی نگرانی سے ویسے ہی بے نیاز ہے اور مہنگائی چار ماہ میں اس لیے ختم ہو جائے گی کہ ہمارے مشیرِ خزانہ ایسا کہتے ہیں اور ان کی بات کا یقین کرنا ہی پڑے گا کیونکہ وہ ایک معتبر آدمی ہیں جبکہ ویسے تو میں بھی کوئی کم معتبر نہیں ہوں بلکہ ایک طرح سے ان سے زیادہ ہی معتبر ہوں کیونکہ وہ آج کل صرف مشیر ہیں اور میں روزِ اول سے وزیر چلا آ رہا ہوں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
لانگ مارچ کے اعلان پر حکمران
بائولے ہو گئے ہیں: عظمیٰ بخاری
نواز لیگ پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ''لانگ مارچ کے اعلان پر حکمران بائولے ہو گئے ہیں‘‘ حالانکہ اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ہم لوگ محض ایک رسم پوری کر رہے ہیں جبکہ ہم اپنے رسم و رواج سے باہر نہیں جا سکتے کہ یہی ہمارا ثقافتی سرمایہ ہے جبکہ اس اعلان کا منفی اثر تو ہم پر پڑنا چاہیے تھا کیونکہ ہمیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلنا بلکہ حکومت نے اور مضبوط ہو جانا ہے جیسا کہ پہلے ہوتا رہا ہے اور استعفے اس لیے نہیں دیے جا رہے کہ یہ ایک غیر جمہوری فعل ہے جبکہ منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کرنے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور موجودہ کمزور جمہوریت کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آپ اگلے روز پنجاب حکومت کی پریس کانفرنس پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہی تھیں۔
مولانا دوسروں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں: حسان خاور
معاون و ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ ''مولانا دوسروں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ اور ایسا لگتا ہے کہ پی ڈی ایم کو کندھا دے دے کر ان کا اپنا کندھا زخمی ہو چکا ہے حالانکہ بندوق چلانے کے لیے انہیں اپنا ہی کندھا استعمال کرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ بندوق میں کارتوس بھی ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو وہ چلا ہوا تو نہیں۔ نیز یہ بھی کہ بندوق کا گھوڑا اپنی اصلی حالت میں موجود ہے‘ کہیں وہ گدھا تو نہیں بن چکا اور اگر سب کچھ ٹھیک بھی ہو تو اس کی کیا دلیل ہے کہ دوسروں کے کندھے پر رکھی ہوئی بندوق کا نشانہ ٹھیک ہی لگتا ہے؟ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ہر شعبے میں انتشار‘ قوم تقسیم ہو چکی: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے اہم رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''ہر شعبے میں انتشار‘ قوم تقسیم ہو چکی‘‘ اور اسے نواز لیگ ہی یکسو کر سکتی ہے کیونکہ اسے یکسوئی سے کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور اس کا ماضی جس کا گواہ ہے کیونکہ اس نے اپنے دور میں صرف ایک ہی کام کیا تھا وہ بھی پوری یکسوئی کے ساتھ اور اس کے علاوہ کسی اور کام کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا جبکہ ایک سپورٹس کمپلیکس کا کام اس یکسوئی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اور جس پر احتساب والے بھی حیران رہ گئے تھے بلکہ خاصے پریشان بھی ہو گئے تھے کیونکہ یکسوئی سے کام کرنے کی اس سے اچھی مثال پہلے کبھی ان کے سامنے نہیں آئی تھی۔ آپ اگلے روز کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پی ڈی ایم کی آڑ میں نواز لیگ
ڈیل کر رہی ہے: حافظ حسین احمد
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور ممتاز پارلیمنٹیرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ''پی ڈی ایم کی آڑ میں نواز لیگ ڈیل کر رہی ہے‘‘ ایک طرف وہ اشارے کی منتظر ہے اور دوسری طرف ڈیل کر رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں میں ناکام ہو گی کیونکہ جس نے اشارہ کرنا ہے، ڈیل کی منظوری بھی اسی نے دینی ہے جبکہ مولانا صاحب ڈیل کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی ان کے لیے کسی اشارے کا امکان ہے اور وہ شاید پی ڈی ایم کے ساتھ اس لیے جڑے ہوئے ہیں کہ بے روزگاری کے اس عالم میں انہیں چھوٹا موٹا روزگار تو میسر ہے جبکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگلے انتخابات کے بعد بھی انہوں نے بے روزگار ہی رہنا ہے۔آپ اگلے روز کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں علی شیراز کی غزل
ماحول شب کا ہو تو چمکتی ہے روشنی
بن بن کے آگ ورنہ بھڑکتی ہے روشنی
اتنے چراغ دفن ہیں سینے کی قبر میں
آنکھوں سے لمحہ لمحہ ٹپکتی ہے روشنی
لگ کر شکستہ لو سے اندھیرا بھی رو پڑے
جس بے بسی کے ساتھ پھڑکتی ہے روشنی
اعزازِ لب کشائی پرندوں کو مل گیا
حالانکہ وقتِ صبح چہکتی ہے روشنی
سورج تمہارا شکریہ رنگوں کی شکل میں
پھولوں کے تن بدن پہ مہکتی ہے روشنی
چھپ چھپ کے خو اب زارِ شبِ پُرسکون میں
نیندوں کے پھول تن سے اُچکتی ہے روشنی
مشعل جلانا پڑتی ہے سورج کی یاد میں
وقتِ غروب اتنا سسکتی ہے روشنی
آج کا مقطع
پائوں پھیلاتا ہوں چادر دیکھ کر میں بھی ظفرؔ
کچھ مجھے اس نے بھی ہے اوقات میں رکھا ہوا

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں