نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آج اپوزیشن کی شکست میں مزید اضافہ ہوا،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور نشاط سرحدی

حکمران عوام کو شودر سمجھتے ہیں‘ قوم
احتساب کے لیے تیار ہے: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''حکمران عوام کو شودر سمجھتے ہیں‘ قوم احتساب کے لیے تیار ہے‘‘ اور تین چار عوام نے مجھے خود بتایا ہے کہ وہ احتساب کے لیے تیار ہیں اور صرف اشارے کے منتظر ہیں لیکن ہم اشارہ اس لیے نہیں کرتے کہ ہم اسے نہایت نامناسب سمجھتے ہیں کیونکہ اشارہ بازی شرفا کا کام نہیں ہے جبکہ میری روزانہ کی تقریر ان کے لیے اشارے کی حیثیت نہیں رکھتی حالانکہ آدمی تقریر کے دوران مبہم اشارے بھی کرتا ہے جو وہ نہیں سمجھتے اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں مزید عقلمند ہونے کی ضرورت ہے جبکہ ضرورت ویسے بھی ایجاد کی ماں ہے۔ آپ اگلے روز سمہ سٹہ جنکشن کے قریب ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
کرپشن کے آگے بند باندھنا وزیراعظم
کی سب سے بڑی کامیابی ہے: ہمایوں اختر
سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ ''کرپشن کے آگے بند باندھنا وزیراعظم کی سب سے بڑی کامیابی ہے‘‘ تاہم یہ بند جگہ جگہ سے ٹوٹتا بھی رہتا ہے اور مرمت کر کے بند بھی کر دیا جاتا ہے کیونکہ کرپشن کا زور اور بہاؤ ہی اتنا ہے کہ وہ بند کو کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں حتیٰ کہ کرپشن کا پانی بعض اوقات بند کے اوپر سے بھی بہنے لگتا ہے جسے ایک قدرتی آفت ہی کہا جا سکتا ہے اور جسے روکنا انسانی بس کی بات ہی نہیں، جبکہ زیادہ تر یہ پانی بند کے اوپر سے ہی بہتا چلا آ رہا ہے جس کو روکنے کے لیے ٹوٹکوں سے بھی کام لے رہے ہیں۔ آپ اگلے روز حلقہ 131کے مرکزی دفتر میں کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے تھے۔
حکومت کے خاتمے پر ہی چین
سے بیٹھیں گے: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ ''حکومت کے خاتمے پر ہی چین سے بیٹھیں گے‘‘ اور اس وقت تک بے چینی ہی میں مبتلا رہیں گے کیونکہ اقتدار کا انتظار بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا حتیٰ کہ لیٹتے اور کھڑے ہوتے وقت بھی اس بے چینی میں کوئی افاقہ نہیں ہوتا کیونکہ عوام کی خدمت کا جو چسکا منہ کو لگا ہوا ہے اور جس کا ذائقہ ابھی تک برقرار ہے، چین غارت کرنے کے لیے وہی کافی ہے۔ اگرچہ عوام اس سے کافی خوف زدہ ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے اس لئے انہیں راضی برضا رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آپ اگلے روز پنجاب اور آزاد کشمیر کے عہدیداروں سے خطاب کر رہے تھے۔
سانحۂ مری، تمام متعلقہ اداروں
کو متحرک کردیا گیا ہے: شہباز گل
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ ''سانحۂ مری کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے‘‘ اور بالآخر پنجاب حکومت بھی متحرک ہو گئی ہے اور وزیراعلیٰ پارٹی کی تنظیم سازی کے اجلاس سے فارغ ہوتے ہی پوری طرح سے متحرک ہو گئے ہیں، اگرچہ الرٹ کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا سکیں جبکہ سیاحوں کے ہجوم کو اس لیے نہیں روکا گیا کہ حکومت ان کے رنگ میں بھنگ نہیں ڈالنا چاہتی تھی، علاوہ ازیں شدید برفباری قدرتی وبا کی صورت میں نازل ہوئی جسے فوری طور پر روکنا بندے بشر کے بس کی بات ہی نہیں تھی جبکہ سیاحوں کے لیے یہ سبق بھی ہے تاکہ وہ آئندہ ایسا نہ کریں۔ آپ اگلے روز لاہور سے ٹویٹ کے ذریعے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
پاکستان کا روشن مستقبل نون لیگ
سے ہی وابستہ ہے: عظمیٰ بخاری
نواز لیگ کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ''پاکستان کا روشن مستقبل نون لیگ سے ہی وابستہ ہے‘‘ اگرچہ اس کے آقاؤں نے یہ مستقبل پہلے ہی کافی روشن کردیا تھا جو ان کے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس سے ظاہر ہے کیونکہ روشن مستقبل کے لیے ذاتی خوش حالی کا ہونا ضروری ہے، اور ان حضرات کی خوشحالی ہی ملک کی خوشحالی ہے؛ چنانچہ ملک کو ایک بار پھر خوشحال کرنے کے لیے یہ حضرات سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں تاکہ ملک کا مستقبل روشن ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے؛ تاہم ایسے مستقبل سے عوام کو خبردار ہونے کی بھی ضرورت ہے اور یہ فریضہ میں ادا کر رہی ہوں۔ پھر نے کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے معمول کی بات چیت میں مصروف تھیں۔
اور‘ اب آخر میں نشاط سرحدی کی غزل:
ہر ایک سے ہر آن بولتے ہو
تم کتنا بے تکان بولتے ہو
تم اس کو میری جان بولتے ہو
اور سب کے درمیان بولتے ہو
شاید زمیں ہو‘ اور کے لیے وہ
تم جس کو آسمان بولتے ہو
سُورج سمجھ رہے ہو تم کرن کو
سائے کو سائبان بولتے ہو
ہر شخص میں مقیم ہے زمانہ
ہر شخص کو مکان بولتے ہو
کھڑکی سے پھینک دیتے ہو نظر کو
کوچے کو کوڑہ دان بولتے ہو
نکلے ہو کیا مدار سے مکاں کے
خود کو جو لامکان بولتے ہو
کشتی میں ہو سوار تم ہوا کی
بادل کو بادبان بولتے ہو
دو گام چل کے بیٹھتے ہو تھک کر
اور خود کو نوجوان بولتے ہو
ہم پیار کی زبان بولتے ہیں
تم کون سی زبان بولتے ہو
آج کا مقطع
آنکھوں میں سرخیوں کا سفر رک گیا، ظفرؔ
دیکھا تو ہم اسیر تھے نیلے گلاب کے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں