نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملتان سلطانزنے 125 رنزکاہدف 19 ویں اوور میں پوراکرلیا
  • بریکنگ :- فاتح کپتان محمد رضوان 52 رنزکےساتھ ناٹ آؤٹ رہے
  • بریکنگ :- ملتان سلطانزکےصہیب مقصود نے 30 رنز بنائے
  • بریکنگ :- اوپنرشان مسعود نے 26 رنزبنائے
  • بریکنگ :- پی ایس ایل7 ، عمران طاہر مین آف دی میچ قرار
  • بریکنگ :- ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو 7 وکٹ سے ہرا دیا
Coronavirus Updates
"ZIC" (space) message & send to 7575

سُرخیاں، متن اور تازہ غزل

حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہر طریقہ
آزمایا جا سکتا ہے: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور نواز لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ''حکومت کو ختم کرنے کیلئے ہر طریقہ آزمایا جا سکتاہے‘‘ جبکہ ایک آخری طریقہ منت سماجت ہی رہ گیاہے کیونکہ باقی سارے طریقے تو آزمائے جا چکے ہیں اور اُمید ہے کہ وہ ہماری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس پر ہمدردانہ غور بھی کرے گی کیونکہ جو حکومت عوام کی ہمدرد نہ ہو اسے برسر اقتدار رہنے کا ویسے بھی حق نہیں کیونکہ اتنی طویل و عریض تحریک کے بعد ہمارا اور عوام کا جو حال ہو چکا ہے ہم صحیح معنوں میں ہمدردی کے مستحق ہیں؛ چنانچہ سینئر رہنماؤں کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے جو منت سماجت کی کارروائی جلد شروع کر دے گی۔ آپ اگلے روز بلال یٰسین کی رہائش گاہ پر ان کی عیادت کر رہی تھیں۔
محکمہ جیل میں اصلاحات کے بانی
وزیراعلیٰ بزدار ہیں: فیاض چوہان
وزیرجیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ ''محکمہ جیل میں اصلاحات کے بانی وزیراعلیٰ بزدار ہیں‘‘ بلکہ وہ تو کئی اور چیزوں کے بھی بانی بننا چاہتے تھے لیکن ہم نے ہی بڑی مشکل سے انہیں منع کیاکہ اس طرح سے اُنہیں کوئی طبی شکایت پیدا ہو سکتی ہے جبکہ عوام پر رحم کھا کھا کر ان کی صحت پہلے ہی کافی کمزور ہو چکی ہے تاہم اگر وہ مزید اصلاحات کا بانی بننا ہی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں اپنے معدے کو لکڑ ہضم پتھر ہضم کرنا چاہیے جس کی انہیں ویسے بھی بے حدضرورت ہے بلکہ بہتر ہے کہ یہ کام اپنی اگلی باری کیلئے اُٹھا رکھیں کیونکہ اگلی بار بھی اگر پارٹی برسر اقتدار آگئی تو ان جیسا وزیراعلیٰ پنجاب دستیاب ہونا مشکل ہوگا۔ آپ اگلے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
عوام حکومت سے سخت بیزار ہیں: فریال تالپور
سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور پی پی خواتین ونگ کی صدرفریال تالپور نے کہا ہے کہ ''عوام حکومت سے سخت بیزار ہیں‘‘ اور ان کی ناراضی کی اصل وجہ اس کی نااہلی ہے جو ہمارے خلاف اتنے مقدمات کو اب تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکی اور ہم پہلے کی طرح کھلے پھرتے ہیں اور جو چار پیسے وصول کئے ہیں اُنہی پر قناعت کر کے بیٹھے ہوئے ہیں حتیٰ کہ بقایا جات بھی وصول کرنا بھول چکے ہیں اس لئے سب سے پہلے حکومت کو اپنی یادداشت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے ،حکومت سے عوام میں مایوسی اور بیزاری بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ہم نے اپنے دور میں عوام کو کبھی بیزار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا حالانکہ وہ اس کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ آپ اگلے روز بلاول بھٹو کے ہمراہ ویڈیو لنک سے خطاب کر رہی تھیں۔
اپوزیشن کی بے چینی کی وجہ معاشی
حالات کی بہتری ہے: ہمایوں اختر
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر نے کہا ہے کہ ''اپوزیشن کی بے چینی کی وجہ معاشی حالات کی بہتری ہے‘‘ جو ابھی عوام تک تو نہیں پہنچی اور جس رفتار سے وہ چل رہی ہے دو چار سال تک اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گی، تاہم حکومت کو چاہیے کہ اپوزیشن کی بے چینی میں کمی لانے کیلئے اس بہتری کی رفتار مزید کم کر دی جائے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں اور کوئی سٹپنی بھی نہیں ہے جسے پنکچر شدہ ٹائر کی جگہ لگا کر کام چلایا جا سکے جبکہ اپوزیشن بے چاری پہلے ہی دھکا سٹارٹ ہے اور اسے دھکا لگانے کا کام بھی حکومت ہی کو کرنا پڑتا ہے جس پر زور لگا لگا کر حکومت پہلے ہی نڈھال ہو چکی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور سے اپنا معمول کا بیان جاری کر رہے تھے۔
نااہل حکمران عوام کو حساب دینے کے
لیے تیار ہو جائیں: مولانا فضل الرحمن
جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''نااہل حکمران عوام کو حساب دینے کیلئے تیار ہو جائیں‘‘ جبکہ پہلے تو ان سے حساب ہم مانگتے رہے ہیں لیکن حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی تو اب ہمارا مؤقف یہ ہے کہ حکومت اگر ہمیں حساب نہیں دیتی تو عوام ہی کو دے دے، اگرچہ عوام نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کے پیش نظر ہمیں عوام کی بات بھی نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہ حکمرانوں ہی سے مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ کم از کم اب ہی کچھ خوفِ خدا کریں اور تھوڑا بہت حساب ہمیں دے دیں کیونکہ ہم قناعت پسند واقع ہوئے ہیں اور تھوڑے کو بھی بہت سمجھتے ہیں۔ آپ اگلے روز بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ملاقات کر رہے تھے۔
اور، اب آخر میں یہ تازہ غزل:
ٹہنیوں سے ہوا گزرتی ہے
اور کیا بے صدا گزرتی ہے
یوں گزرتی ہے زندگی جیسے
تیری آوازِ پا گزرتی ہے
دل میں آتے ہیں لاکھ اندیشے
جب بھی سر سے گھٹا گزرتی ہے
یاس و امید کے اندھیروں میں
روشنی جا بہ جا گزرتی ہے
بے یقینی کی لہر باہر سے
میرے اندر بھی آ گزرتی ہے
ناامیدی جو ہے مرے ہر سُو
میرے گھر سے جُدا گزرتی ہے
ایک بھی بار جو نہ گزرتی ہو
اب وہی بارہا گزرتی ہے
ایک وحشت گزرتی ہے سر سے
جیسے کوئی بلا گزرتی ہے
وہ جو اب مہرباں نہیں ہے‘ ظفرؔ
کس طرح سے‘ بتا‘ گزرتی ہے
آج کا مقطع
ظفرؔ کے ہاتھ بھی خالی ہیں اور دل بھی مگر
اُسی نے آپ کا اُمّیدوار ہونا ہے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں