"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور سدرہ سحر عمران

27فروری کو اسلام آباد سے
کچرا صاف کریں گے: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''27فروری کو اسلام آباد سے کچرا صاف کریں گے‘‘ اگرچہ کراچی میں کچرا اسلام آباد سے کہیں زیادہ ہے لیکن ہم خود غرضی کے بجائے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ویسے بھی کراچی کا کچرا شام تک صاف کریں گے تو دوسری صبح پھر اتنا ہی کچرا سڑکوں پر موجود ہو گا بلکہ سڑکوں کا تو اب نام و نشان ہی نہیں ہے اور ہر طرف کچرا ہی کچرا نظر آتا ہے جبکہ اسلام آباد سے کچرا صاف کرنے کا دعویٰ بھی ایک تکلف ہی ہے کیونکہ اگر کچرا صاف کرنے کی اہلیت ہوتی تو پہلے کراچی سے ہی یہ صاف کر لیتے؛ تاہم کوشش کرنے اور کہنے میں کیا حرج ہے۔ آپ اگلے روز لاڑکانہ میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
موروثی سیاست والی دو پارٹیوں
نے ملک کا بیڑہ غرق کیا: شبلی فراز
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سید شبلی فراز نے کہا ہے کہ ''موروثی سیاست والی دو پارٹیوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا‘‘ اگرچہ ہم اپنی سی کوشش کر رہے ہیں لیکن کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی، جبکہ ویسے بھی وہ دو تھے اور ہم اکیلے ہیں؛ اگرچہ ہمارے اتحادی اس سلسلے میں ہمارے ساتھ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں لیکن ان دونوں کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں لیکن اس کے باوجود ہم ہمت ہارنے والے نہیں ہیں اور اپنی سی تگ و دو کرتے رہیں گے کیونکہ ہم یہ سارا کچھ نیک نیتی سے کر رہے ہیں اور جو کام اچھی نیت سے کیا جائے قدرت بھی اس میں مدد کرتی ہے اس لیے امید ہے کہ ہم بہت جلد اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گیا۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔
2022ء نااہل حکمرانوں کا
آخری سال ہوگا: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''2022ء نااہل حکمرانوں کا آخری سال ہوگا‘‘ کیونکہ اس کے بعد نئے انتخابات کی گہما گہمی شروع ہو جائے گی اور اس طرح حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور یوں ہم نے اسے چلنے دیا کہ یہ اپنی انتہا تک پہنچ سکے، اس لیے ہم اپنی پانچ سالہ جدوجہد پر بجاطور پر فخر کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ ساتھ نان و نفقہ بھی جاری و ساری رہا جو تحریک کے عظیم مقاصد میں سرِفہرست تھا جبکہ آدمی اپنے پیٹ کے لیے ہی سارا کچھ کرتا ہے، نیز محنت کے صلے کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے؟ آپ اگلے روز لاہور میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے ملاقات کر رہے تھے۔
پیغام ملا‘ میں آگ کے ساتھ کھیل رہا ہوں: احمد جواد
پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری احمد جواد نے کہا ہے کہ ''مجھے پیغام ملا کہ میں آگ سے کھیل رہا ہوں‘‘ حالانکہ آگ کوئی کھلونا نہیں جس سے کھیلا جا سکے اور پارٹی خدمات کے سلسلے میں میرے سامنے ایک شاندار ماضی ہے جس سے میں دل بہلایا کرتا ہوں اور مجھے کسی مزید کھلونے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے علاوہ بھی بازار میں طرح طرح کے کھلونوں کی کمی نہیں ہے جو معمولی قیمت پر دستیاب ہیں بلکہ گھگو گھوڑے تو اب گھر پر ہی ڈلیور ہو جاتے ہیں اور کوئی لمبا چوڑا معاوضہ بھی نہیں دیتا پڑتا‘ البتہ اس میں کیا شک ہے کہ یہ ابھی کھیلنے کھانے کے دن ہیں، اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے، آمین ثم آمین۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ٹویٹ کے ذریعے اپنا بیان جاری کر رہے تھے۔
بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت
کو امیدوار نہیں ملیں گے: چودھری شہباز
نواز لیگ کے رکن اسمبلی چودھری شہباز نے کہا ہے کہ ''بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کو امیدوار نہیں ملیں گے‘‘ اور ایسا لگتا ہے کہ اسے امیدوار بھی ہمیں سپلائی کرنا پڑیں گے جس کے لیے فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں کیونکہ اگر حکمران جماعت کا امیدوار ہی میدان میں نہ ہو تو ہم انتخاب کس کے خلاف لڑیں گے جبکہ ہمارے پاس امیدواروں کی اتنی بھرمار ہے کہ ان میں سے اکثر کو ٹکٹوں سے محروم ہونا پڑے گا‘ اس لیے ایک ہی حل ہے کہ انہیں حکمران جماعت کی طرف شفٹ کر دیا جائے کیونکہ سیاسی ہم آہنگی کا تقاضا بھی یہی ہے، نیز حکمران جماعت کی طرف سے اس سلسلے میں تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے جس پر ہمدردی سے غور کیا جا رہا ہے اور جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید ہے۔ آپ اگلے روز ایک فورم میں گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں سدرہ سحر عمران کی شاعری:
جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے
وقت گزرا جا رہا ہے‘ دھوپ چھت سے ٹل رہی ہے
اک لباسِ فاخرہ ہے‘ سرخ گرگابی‘ محل ہے
کچھ پرانی ہو گئی ہے‘ پر کہانی چل رہی ہے
اک ستارہ ساز آنکھوں کے کنارے بس رہا ہے
اک محبت نام کی لڑکی بدن میں پل رہی ہے
پاس تھا کھویا نہیں ہے‘ جو نہ تھا اب بھی نہیں ہے
عمر بھر پھر کیوں طبیعت مضطرب‘ بے کل رہی ہے
آنا جانا اس سانس کا کیا وصل سے مشروط ہے جو
تو چلے تو تھم رہی ہے‘ تو رُکے تو چل رہی ہے
زرد رُو‘ وحشت زدہ‘ بھٹکی ہوئی ویران سی ہے
زندگی اک شام ہے اور شام بن میں ڈھل رہی ہے
٭......٭......٭
یہ گلی تیرے گھرکی سیدھ میں ہے
اس میں آتے ہیں لوگ بھٹکے ہوئے
کاغذی پھول تھے تمہارے خط
یا کہ پتھر تھے مجھ پہ پھینکے ہوئے
آج کا مقطع
ہمارے بارے میں وہ سوچتا ہی کیوں تھا ظفرؔ
ہماری جس سے کوئی آشنائی ہی نہیں تھی

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں