"ZIC" (space) message & send to 7575

سرخیاں، متن اور اوکاڑہ سے مسعود احمد

عوام عمران خان کی منفی سیاست
سے تنگ ہیں: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''عوام عمران خان کی منفی سیاست سے تنگ ہیں‘‘ اور انہیں یہی بات بتانے کیلئے وہ ان کے جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہوتے ہیں اور باقی سارے کام انہوں نے چھوڑ رکھے ہیں لیکن یہ بات خان صاحب کی سمجھ میں نہیں آ رہی جس پر عوام نے ریلیوں اور استقبالیوں میں مزید زور و شور سے شامل ہو کر انہیں سمجھانا شروع کر دیا ہے لیکن یہ بات خان صاحب کے پلے ہی نہیں پڑ رہی اور اسی وجہ سے عوام کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے کیونکہ وہ بھی اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ آپ اگلے روز خواجہ سعد رفیق اور امیر مقام سے ملاقات کر رہے تھے۔
ہماری حکومت آئی تو پانچ برس میں
ملکی قرض اتار کردکھائوں گا: چودھری سرور
سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری سرور نے کہا ہے کہ ''ہماری حکومت آئی توپانچ برس میں ملکی قرض اتار کر دکھائوں گا‘‘ اور میرے (ق) لیگ میں شامل ہونے کے بعد تو یہ کام اور بھی آسان ہو گیا ہے جس میں میرے اور خاندان کے چند ایک لوگوں کے علاوہ چودھری شجاعت حسین شامل ہیں جو اکیلے ہی سوا لاکھ کے برابر ہیں اور مزید قطرے اس میں شامل ہو کر ایک زوردار دریا کی صورت اختیار کر لیں گے جبکہ میں تو بطور گورنر بھی یہ اقدام کرنے والا تھا لیکن حکومت نے یہ الزام لگا کر مجھے فارغ کردیا کہ میں اس کی باتیں مخالفین کو بتا دیتا ہوں حالانکہ یہ باہمی تعاون و ہم آہنگی کا ایک مظاہرہ تھا۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پی ٹی آئی ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی: نواز شریف
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہاہے کہ ''پی ٹی آئی ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے‘‘ اور ملک میں جو مثالی اتحاد اور یگانگت موجود ہے اس کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے جو کہ اہلِ سیاست کے آئے روز کے پیغامات سے واضح ہے کہ وہ ایک دوسرے کے صدقے واری جا رہے ہیں اور ہر وقت آپس میں بغلگیر ہی رہتے ہیں اداروں کی عزت افزائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی اور ایک دوسرے کو ان کے اصلی نام کے علاوہ درجنوں خطابات و القابات سے پکارا جا رہا ہے اور پی ٹی آئی کو یہ اتحاد اور بھائی چارہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے جسے وہ ختم کرنے کے درپے ہے۔ آپ اگلے روز لندن سے وزیراعظم شہباز شریف سے فون پر گفتگو کر رہے تھے۔
نگران حکومت (ن) لیگ کی
بی ٹیم ہے: ڈاکٹر سیمی بخاری
پاکستان تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ڈ اکٹر سیمی بخاری نے کہاہے کہ ''نگران حکومت (ن) لیگ کی بی ٹیم ہے‘‘ جبکہ ہماری تو اے ٹیم کو بھی اپنے لالے پڑے ہوئے ہیں کیونکہ پارٹی چیئرمین کی گرفتاری سر پر آ پہنچی ہے اور ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکا کہ ان کے بعد پارٹی کی قیادت کون کرے گا بلکہ اس کیلئے مختلف پارٹی رہنمائوں کے درمیان زور آزمائی شروع ہو گئی ہے اور ہر کوئی اپنا اپنا زور لگا رہا ہے اس لیے ہماری اے ٹیم کی صورتحال جاننے کیلئے موجود کشمکش ہی کو کافی سمجھا جانا چاہیے۔ آپ اگلے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔
نواز شریف نظام عدل اور معیشت کا
نیا خاکہ پیش کریں گے: سعد رفیق
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ''نواز شریف نظام عدل اور معیشت کا نیا خاکہ پیش کریں گے‘‘ جس کے مختلف نکات پہلے ہی ان کے ریکارڈ پر موجود ہیں جبکہ نظام عدل کے حوالے سے جسٹس سجاد علی شاہ والا معاملہ ایک مثال کا درجہ رکھتا ہے جس کی روشنی میں اس خاکے میں مزید رنگ بھرے جا سکتے ہیں جبکہ معیشت کے تو ویسے بھی ماسٹر ہیں کہ سرمائے کے ارتکاز اور بیرونِ ملک منتقلی کا خاصا تجربہ ہے بلکہ اس حوالے سے بنا بنایا خاکہ ان کے پاس پہلے ہی موجود ہے۔ آپ اگلے روز وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات اور گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں اوکاڑہ سے مسعود احمد کی شاعری:
موم تھا موم سے چٹان ہوا
ٹھوکریں کھا کے میں جوان ہوا
کیا ریاضت تھی جان جوکھوں کی
شہر کا شہر سخت جان ہوا
وہ محبت تھی یا عداوت تھی
کیا مرے اس کے درمیان ہوا
ٹوٹ کر ہاتھ پاؤں چلنے لگے
ڈوب کر میں بھی بادبان ہوا
کب ہوا مجھ کو سازگار ملی
وقت کب مجھ پہ مہربان ہوا
میں نے پائوں سے کیا اٹھایا اسے
سر پہ چڑھ کے وہ آسمان ہوا
انتہا تھی یہ بدگمانی کی
جو ملا مجھ سے بدگمان ہوا
ہم تو پہلے بھی امتحان میں تھے
زندگی کا بھی امتحان ہوا
جانور بولنے لگے فر فر
آدمی تھا میں بے زبان ہوا
٭......٭......٭
آتشِ انتقام ٹھندی ہو
اے ہوس کی غلام‘ ٹھنڈی ہو
لے مزہ دھوپ میں دسمبر کا
کچھ جولائی کی شام ٹھنڈی ہو
ایسا غصہ گلہ محبت میں
ہے سراسر حرام ٹھنڈی ہو
اس سے پہلے تمام ہو جاؤں
حسرتِ ناتمام ٹھنڈی ہو
آگ ہو تم قریب مت آئو
دور سے ہی سلام ٹھنڈی ہو
تیل اور تیل وہ بھی جلتی پر
کچھ تو عبرتِ مقام ٹھنڈی ہو
اے خوئے نادری رعیت پر
پھر وہی قتلِ عام ٹھنڈی ہو
ہم برے ہیں برے سہی کچھ تو
نام کی نیک نام ٹھنڈی ہو
آج کا مطلع
نہیں کہ دل میں ہمیشہ خوشی بہت آئی
کبھی ترستے رہے اور کبھی بہت آئی

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں