ساؤتھ ایشیا ٹرمینل پر ڈریجنگ کا کام تاخیر کا شکار
کنٹریکٹ بلجیم کمپنی کو دینے کے بعدپورٹ قاسم حکام نے باقاعدہ معاہدہ نہیں کیا منتخب کمپنی کو کنٹریکٹ دیدیا گیا 6 ماہ میں ٹرمینل کو کار آمد بنایا جاسکتا ہے ، ذرائع
کراچی(رپورٹ:مظہر علی رضا)پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے کراچی کی بندرگاہ پر قائم کیے جانے والے ڈیپ سی ٹرمینل ساؤتھ ایشیا ٹرمینل لمیٹڈ(ایس اے پی ٹی)میں مدر شپ کیلئے ڈریجنگ کا کنٹریکٹ بلجیم کی کمپنی کو ایوارڈ کیے جانے کے باوجود معاہدے میں تاخیر کی جارہی ہے جس کے باعث ٹرمینل پر ڈریجنگ کا کام بھی رکا ہوا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ڈیپ سی ٹرمینل ساؤتھ ایشیا پر مدر شپ کیلئے کم از کم 15میٹر تک ڈریجنگ کی جانی ہے جبکہ ابھی تک ٹرمینل پر10میٹر کی ڈریجنگ کا کام ہوچکا ہے ۔ پورٹ قاسم حکام کوٹرمینل پر ڈریجنگ کیلئے 3 کمپنیوں کی جانب سے پیشکیں موصول ہوئیں تھیں جس میں بلجیم کی وینورڈاور چین کی چائنا اوشین اور چائنا ہاربر کمپنیاں شامل تھیں،پیشکشوں کے بعد پورٹ قاسم حکام نے ڈریجنگ کا کنٹریکٹ بلجیم کی کمپنی وینورڈ کا دیدیا تھا،تاہم 2 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کمپنی کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ نہیں کیا جاسکا ہے جس کے باعث ٹرمینل پر ڈریجنگ کا عمل 10میٹر کی سطح پر آکر رکا ہوا ہے ،اس سے قبل ٹرمینل پر ڈریجنگ کا کام چین کی چائنا واٹر اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے سپرد تھا ،تاہم منصوبے کے معاملات عدالت میں آنے پر چائنا واٹر اینڈ انجینئرنگ کمپنی سے ڈریجنگ کا معاہدہ ختم کردیا گیا تھا،انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ڈریجنگ کیلئے منتخب کمپنی کو فوری طور پرکنٹریکٹ دیدیا گیا تو 6 ماہ میں ٹرمینل کو مدر شپ کیلئے کار آمد بنایا جاسکتا ہے ۔ٹرمینل میں 16میٹر تک ڈریجنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہاں18ہزار ٹن ٹی ای یو سے زائد کے مدر شپ آسکیں گے جبکہ 10 میٹر تک گہرائی پر ٹرمینل پر2500تا3000ٹی ای یو تک کے کارگو جہاز لنگر انداز ہوسکیں گے ۔