سٹاک ایکسچینج: دوسری بدترین مندی ،631ارب خسارہ

سٹاک ایکسچینج: دوسری بدترین مندی ،631ارب خسارہ

پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان،5478پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس167691پربند پاک،ایران کشیدگی اور مسلسل بیرونی سرمائے کا انخلا مندی کی وجہ بنا،ماہرین

کراچی(بزنس رپورٹر)سٹاک ایکسچینج کاروباری  ہفتے کے پہلے روز سال کی دوسری بدترین مندی کا شکار رہی جس کے نتیجے میں 100انڈیکس کی 1لاکھ 74 ہزار ، 73ہزار، 1لاکھ   72ہزار، 1 لاکھ 71 ہزار ، 1لاکھ 70ہزار، 1لاکھ 69ہزار، 1لاکھ 68ہزار اور 1 لاکھ67 ہزار پوائنٹس کی مزید 7 حدیں گرگئیں ۔بدترین مندی کے سبب 81.21فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 6کھرب 31ارب روپے سے زائدڈوب گئے ۔کاروباری دورانیے کے آغاز پر 1167پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی 1لاکھ 74ہزار پوائنٹس کی سطح بحال ہوگئی تھی لیکن رول اوور ویک کی وجہ سے پرافٹ ٹیکنگ اور پرانے سودوں کے تصفیوں کے لیے حصص کی آف لوڈنگ سے مارکیٹ مندی میں تبدیل ہوگئی جس سے ایک موقع پر 6283پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس کی 1لاکھ 67ہزار پوائنٹس کی سطح بھی گرگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔دن بھر اسٹاک سرمایہ کاروں نے بلوچپ کمپنیوں کے شیئرز فروخت کرنے کو ترجیح دی ۔ماہرین کے مطابق امریکا ایران کشیدگی، پاکستان اور افغان کے درمیان کشیدگی کے علاوہ غیرملکیوں کی مسلسل سرمائے کے انخلا کے باعث مندی رہی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 5478.63 پوائنٹس کی کمی سے 167691.08پوائنٹس پر بند ہوا، اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 1715.27پوائنٹس کی کمی سے 51327.62پوائنٹس اورآل شیئرز انڈیکس 3347.16 پوائنٹس کی کمی سے 100605.79پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 14.20فیصد کم رہا۔گزشتہ روز 46کروڑ 12لاکھ 64ہزار 025 حصص کے سودے ہوئے ۔مجموعی طور پر479 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا جس میں سے 42 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ، 389 میں کمی اور 48 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔دوسری جانب مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کے انخلاء سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حجم 19 ہزار 600 ارب روپے سے گھٹ کر 18 ہزار 900 ارب روپے کی سطح پر آگئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں