قلتِ آب معیشت و زراعت کیلئے سنگین خطرہ، وفاقی چیمبر

قلتِ آب معیشت و زراعت کیلئے سنگین خطرہ، وفاقی چیمبر

فی کس پانی کی دستیابی کم، مسئلے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر حل کیاجائے سندھ طاس معاہدے پرعالمی برادری کردار ادا کرے ،صدرعاطف اکرام

اسلام آباد(اے پی پی)وفاقی چیمبر کے صدرعاطف اکرام شیخ نے عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ پانی کا تحفظ اور اس کے ضیاع کی روک تھام وقت کی اہم ترین ضرورت اور قومی ذمہ داری ہے ،صاف پانی کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جبکہ پانی کی بڑھتی قلت معیشت اور زراعت کیلئے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی یومِ آب ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل پانی کے موثر انتظام سے جڑا ہوا ہے ، آبی تحفظ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی انصاف اور صنفی برابری کیلئے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو تیزی سے بڑھتے آبی بحران کا سامنا ہے ، جہاں قیامِ پاکستان کے بعد فی کس پانی کی دستیابی 5260 مکعب میٹر سے کم ہو کر 1000 مکعب میٹر سے بھی نیچے آ چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن نے آبی قلت کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے جس کے پیشِ نظر اس مسئلے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو پانی بچا مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔صدر ایف پی سی سی آئی نے عالمی یومِ آب کے موقع پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا باعثِ تشویش ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دبا ڈالے تاکہ وہ بین الاقوامی وعدوں کے مطابق اس معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد بحال کرے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں