ٹرمپ کا ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم : ایرانی میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی
ہرمزنہ کھولی توایرانی پاور پلانٹس تباہ کردینگے :امریکی صدر، جوہری پلانٹس پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ،مذاکرات کے دروازے بند :عراقچی دھمکیوں کا فیصلہ کن جواب دینگے :پزشکیان ،ایرانی حملوں میں 6اسرائیلی ہلاک ،بیسیوں زخمی، عمارتیں تباہ ،برطانیہ نے امریکا کو اڈے استعمال کیلئے دیدئیے
تہران ،واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر اسکے پاورپلانٹس تباہ کردئیے جائیں گے ،ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جبکہ برطانیہ نے امریکا کو ایران پر حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنگ جلد ختم ہونے کے اعلان کے بعد ایران کو نئی تڑی لگا دی،انہوں نے اپنے بیان میں دھمکی دیتے کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے کے اندر اندر آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکا ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو مرحلہ وار تباہ کردے گا، سب سے پہلے ایران کے بڑے بجلی گھر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ٹرمپ کی دھمکی پر ایران نے جواب میں کہا کہ ٹرمپ نے ایسا کیا تو مشرق وسطیٰ میں امریکا کے توانائی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے یہ ڈیڈ لائن ایرانی وقت کے مطابق 22 مارچ کی صبح تین بج کر 14 منٹ پر دی اور یہ 24 مارچ کو اسی وقت پر ختم ہو گی۔ایرانی رکن پارلیمنٹ علاؤالدین بروجردی نے سرکاری ٹی وی پر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ بحری جہازوں سے ایران کی جانب سے 20 لاکھ ڈالر فیس وصول کی جا رہی ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انکے ملک کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ ایکس پر بیان میں ان کاکہناتھاکہ بے قابو بیانات اور لاپرواہ دھمکیوں کا فیصلہ کن جواب دیں گے ، ایران کو نقشے سے مٹانے کی دھمکی امریکا کی مایوسی ظاہر کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ کرنیوالوں کیلئے آبنائے ہرمز بند ہے ، آبنائے ہرمز ہمارے دوست ممالک کیلئے کھلا ہے ۔ایران نے اسرائیل اور امریکا کیخلاف آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت 73 ویں لہر کا آغاز کر دیا اور اس کو یا حیدر کا نام دیا گیا ہے ۔اسرائیل کے شہروں عراد، دیمونا، ایلات، بیر السبع اور کریات گت میں فوجی و سکیورٹی مراکز پرمیزائل داغے گئے ۔
جنوبی اسرائیل کے سورکا ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ایرانی حملوں کے 150 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور6افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے ۔پاسداران انقلاب ایران کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام کے گرنے کے بعد علی السالم، منہاد، الظفرہ سے امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کئے گئے ، ان حملوں میں اسرائیل میں 200 سے زائد ہلاک اور زخمی ہوئے ۔عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیل کے جنوبی شہروں عراد، دیمونا اور وسطی علاقوں پر کلسٹر وار ہیڈ والے میزائلوں سے حملے کئے ہیں۔ شہر دیمونا پر ایران نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانچویں بار میزائل حملے کئے ، جس سے شہر میں شدید تباہی کی اطلاعات ہیں، یہ شہر نہایت سکیورٹی میں گھرا ہوا ہے اور یہاں اسرائیل کا جوہری پلانٹ بھی واقع ہے ۔ جنوبی شہر عراد میں ایرانی حملے میں کم از کم 20 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، دیمونا میں 3 منزلہ عمارت مکمل منہدم ہوگئی۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران تیسرے ایف 16 طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے اسکی تردید کرتے کہا کہ طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہر دیمونا پر حملہ نطنز میں واقع جوہری افزودگی کے مرکز پر اسرائیلی حملے کے ردعمل میں کیا گیا ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنوبی اسرائیلی شہر دیمونا اور عراد میں ایران کے جوابی حملوں سے پریشان ہوگئے ۔سوشل میڈیا پر نیتن یاہو نے بیان میں کہا یہ اسرائیل کیلئے انتہائی مشکل شام ہے ، انتہائی مشکل شام کے باوجود دشمنوں پر حملے جاری رکھیں گے ، یہ ہمارے مستقبل کی جنگ ہے ۔ دیمونا اور عراد پر ایران کے ہولناک حملوں کے بعد اسرائیل نے پورے ملک میں تعلیمی اداروں میں چھٹی دے دی۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی شہر دیمونا میں میزائل واقعے کی اطلاعات سے آگاہ ہیں، نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کو نقصان پہنچنے کے شواہد نہیں ملے ، غیر معمولی تابکاری ریکارڈ نہیں ہوئی۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران، اصفہان اور خارگ کے علاقوں میں اسرائیل نے فضائی حملے کئے ہیں ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر نطنز اور بوشہر جوہری پلانٹس پر حملوں سے آگاہ کیا۔عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے جوہری تنصیبات پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے تابکاری کا خطرہ موجود ہے ، اگر تابکاری ہوئی تو انسانی آبادی اور ماحول کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے ، حملے عالمی امن کیخلاف جارحیت ہے ۔ان کا بیان میں کہناتھاکہ ایران نے امریکا کیساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں،امریکا نے پہلے بھی ایران کو مذاکرات کے نام پر بدترین دھوکا دیا،اب امریکا پر اعتمادکی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔
عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں بغداد ایئر پورٹ پر قائم امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق پہلے ایک ڈرون کو کامیابی سے روکنے اور تباہ کرنے کے بعد اب اسی علاقے میں مزید کم از کم 6 ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے ۔ 10 ڈاوننگ سٹریٹ کے مطابق برطانیہ نے امریکا کو ایران پر حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی، برطانوی مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔اس پرعباس عراقچی نے خبردار کیا کہ برطانوی وزیراعظم اپنے عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ امریکا نے عارضی طور پر ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت بھی دیدی ہے ۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ نیا لائسنس19 اپریل تک فعال رہے گا۔