حکومت کوصنعتی فکسڈ بجلی ٹیرف 6ماہ کیلئے موخر کرنے کا مشورہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے صنعتوں پرپڑنے والا اضافی بوجھ کم ہوگا، چیمبر آف کامرس پاور مینجمنٹ کمپنی کوثاقب فیاض کی جانب سے خط ارسال، ٹیرف غیر منصفانہ قرار دیا
کراچی(کامرس رپورٹر)فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیشِ نظر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتوں پر اضافی بوجھ کم کرنے کیلئے فکسڈ بجلی ٹیرف کے نفاذ کو کم از کم چھ ماہ کیلئے موخر کیا جائے ، اس حوالے سے پاکستان پاور مینجمنٹ کمپنی کو فیڈریشن چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کی جانب سے باقاعدہ خط ارسال کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں صنعتی لاگت میں اضافہ برآمدات اور پیداواری سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ سینئر نائب صدر فیڈریشن چیمبر آف کامرس کے مطابق مختلف صنعتی شعبوں میں بجلی کے استعمال کا پیٹرن ایک دوسرے سے نمایاں مختلف ہے ، تاہم یکساں ٹیرف کا اطلاق غیر منصفانہ ہے ۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ ٹیکسٹائل، ٹیلی کام اور اسٹیل سیکٹر کی بجلی کی ضروریات اور استعمال کے اوقات مختلف ہوتے ہیں جبکہ لائٹ انجینئرنگ، فوڈ پراسیسنگ اور آئس فیکٹریوں میں بجلی کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے ، اس کے باوجود تمام شعبوں پر ایک جیسا ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے ،متن کے مطابق فرنس آئل پر چلنے والی صنعتیں کم وقت میں زیادہ بجلی استعمال کرتی ہیں، جس سے ان پر فکسڈ ٹیرف کا بوجھ زیادہ پڑتا ہے ۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صنعتی سرگرمیوں کو مستحکم رکھنے اور لوڈ مینجمنٹ کو متوازن بنانے کیلئے ضروری ہے کہ بجلی کے نرخوں کا تعین صنعتوں کے استعمال کے پیٹرن کے مطابق کیا جائے ، تاکہ صنعتی شعبہ مالی دباؤ سے محفوظ رہے اور برآمدات متاثر نہ ہو۔