او آئی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز پیش، ٹیکس اصلاحات پر زور

او آئی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز پیش، ٹیکس اصلاحات پر زور

کارپوریٹ ٹیکس مرحلہ وار 25فیصد، سپر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش پائیدار معاشی ترقی کیلئے اسٹیک ہولڈرز کیساتھ رابطہ ناگزیر ،بلال اظہرکیانی

کراچی(بزنس ڈیسک)وفاقی وزیرِ مملکت برائے خزانہ اور ریونیوبلال اظہر کیانی نے اوورسیز انوسٹرز چیمبرکا دورہ کیا۔ اس دوران او آئی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ برائے 2026-27کیلئے اپنی اہم ٹیکس تجاویزپیش کیں۔ اس موقع پر ٹیکس پالیسی آفس کے ڈائریکٹر جنرل نجیب میمن نے بھی آن لائن شرکت کی۔ وزیرِ مملکت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے دی گئی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ پائیدار معاشی ترقی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور شفافیت کے فروغ کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطہ ناگزیر ہے ۔ او آئی سی سی آئی نے تجویزدی کہ آئندہ بجٹ میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کم کرکے 28فیصد کی جائے اورآئندہ3سالوں میں اسے مرحلہ وار 25فیصد تک لایاجائے جبکہ سپر ٹیکس کوبھی بتدریج ختم کیا جائے ۔ اوآئی سی سی آئی کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس،ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکر ز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈکے مجموعی اثر سے مؤثر ٹیکس شرح تقریباً46فیصد تک پہنچ جاتی ہے ، اس کے علاوہ چیمبر نے کہا کہ بینکاری شعبہ پر غیر متناسب ٹیکس بوجھ معیشت میں سرمایہ کے مؤثر استعمال کو متاثر کررہاہے جس کے نتیجے میں کاروباری اداروں کیلئے ورکنگ کیپٹل کی دستیابی اور لاگت پر اثر پڑتاہے ۔ ٹیلنٹ کے تحفظ کیلئے او آئی سی سی آئی نے زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقہ پر 10فیصد سرچارج ختم کرنے اور ذاتی انکم ٹیکس کی شرح 25فیصد تک محدود کرنے کی سفارش کی ہے ۔ اس کے علاوہ ودہولڈنگ ٹیکس کے شرح کو معقول بنانے اور کم از کم ٹیکس نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں