صنعتی مسائل حل کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، سوپ مینوفیکچررز

صنعتی مسائل حل کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں، سوپ مینوفیکچررز

بھاری کسٹم ڈیوٹی، سیلز و انکم ٹیکس، دیگر محصولات سے صابن انڈسٹری کومشکلات کئی کارخانے بند، دیگر اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، چیئرمین طارق زکریا، اجلاس

کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی صنعتوں کو درپیش سنگین مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، کیونکہ بھاری کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر محصولات کے باعث صابن سازی کی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے ، متعدد کارخانے بند ہو چکے اور کئی دیگر بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ مطالبات پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک اہم اجلاس میں سامنے آئے جو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں نائب چیئرمین طارق زکریا کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں آئندہ مالی سال 27-2026کے بجٹ کے لیے تجاویز سمیت صابن کی صنعت کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، طارق ذکریا نے کہا کہ بجٹ تجاویز میں حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ آر بی ڈی پام اسٹیرین پر سوپ اور اولیو کیمیکل صنعتوں کیلئے الگ الگ ڈیوٹی اسٹرکچر نافذ ہے ، حالانکہ دونوں صنعتوں میں اس خام مال کا استعمال صابن کی تیاری کیلئے کیا جاتا ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں صنعتوں کے لیے ڈیوٹی کی شرح یکساں کی جائے تاکہ صابن سازی کی صنعت مسابقتی ماحول میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے ، انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے متعدد ارکان نے صابن اور اولیو کیمیکل شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے عالمی معیار کے پیداواری یونٹس قائم کئے ہیں، جنہوں نے درآمدات کا متبادل فراہم کرنے کے ساتھ برآمدات سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا، تاہم گیس کی مسلسل قلت اور خام مال کی دستیابی میں مشکلات کے باعث صنعتکار اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پا رہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں