اوورسیز ایمپلائمنٹ شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا مطالبہ

اوورسیز ایمپلائمنٹ شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا مطالبہ

بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں کمی سے ورک فورس کی برآمد متاثر ہو رہی افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کیلئے قومی پالیسی تشکیل دی جائے ،عدنان پراچہ

کراچی (رپورٹ: حمزہ گیلانی) اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ماہر اور سابق نائب صدر پوئپاعدنان پراچہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے تاکہ اس کی استعداد اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہو سکے ، اس کے ساتھ پاکستانی افرادی قوت کی برآمد میں اضافے کیلئے حکومت کو کم از کم پانچ سالہ قومی پالیسی تشکیل دینی چاہیے ۔ دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عدنان پراچہ نے بتایا کہ پاکستان کی افرادی قوت ملکی معیشت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے ، تاہم بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں کمی اور خلیجی ممالک میں درپیش مشکلات کے باعث ورک فورس کی برآمد متاثر ہو رہی ہے جس کے تدارک کے لیے فوری اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے ۔انہوں نے جنوری تا جون 2026ء پاکستانی افرادی قوت سے متعلق جاری کیے گئے اپنے تجزیے میں کہا کہ پاکستان کی تقریباً 52 سے 55 فیصد آبادی قابلِ روزگار افراد پر مشتمل ہے۔

جو ملکی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے ،ان کے مطابق دنیا بھر میں مقیم تقریباً90لاکھ اوورسیز پاکستانی مالی سال 2025-26ء کے دوران ریکارڈ 41 ارب امریکی ڈالر کی ترسیلاتِ زر وطن بھیج کر ملکی معیشت کو سہارا دینے ، زرمبادلہ ذخائر بہتر بنانے اور تجارتی و مالیاتی خسارے میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔عدنان پراچہ نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان کی تمام برآمدی صنعتوں نے مجموعی طور پر تقریباً 30 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کیں، تاہم ترسیلاتِ زر کا حجم اس سے بھی زیادہ رہا، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ملکی معیشت میں غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے ۔ انہوں نے دنیا نیوز کو مزید بتایا کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوری تا جون 2026 ن تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار پاکستانی ملازمت کے ویزے پر بیرونِ ملک روانہ ہوئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کم تعداد ہے جبکہ سال 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی مختلف ممالک میں روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے تھے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں