سلفونک ایسڈ کی قلت سے صابن انڈسٹری شدید بحران کاشکار
خام مال کی نایابی سے پیداوار شدید متاثر، لاگت بھی بڑھ گئی، طارق زکریا
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین طارق زکریا نے کہا ہے کہ ملک میں سوپ، ڈٹرجنٹس، ڈش واشنگ لیکویڈ اور دیگر صفائی کی مصنوعات کی تیاری میں استعمال اہم خام مال سلفونک ایسڈ ایچ ایس کوڈ 3402.3100 کی شدید قلت سے صابن کی لوکل انڈسٹری سنگین بحران سے دوچار ہے ، خام مال کی عدم دستیابی سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور سب سے زیادہ نقصان چھوٹے اور درمیانے درجے کے مقامی صنعتکاروں کو پہنچ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تیار کرنے والے ادارے بنیادی خام مال کی قلت سے مقامی صنعت کی ضرورت کے مطابق پیداوار فراہمی سے قاصر ہیں، اس صورتحال کے نتیجے میں صابن سازی کی متعدد فیکٹریاں اپنی استعداد سے کم پیداوار کر رہی ہیں، جبکہ کئی صنعتوں کیلئے پیداوار کا تسلسل برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
طارق زکریا نے کہا کہ لیبسا کی درآمد پر اس وقت 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس،5.5 فیصد انکم ٹیکس اور 4 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے ، جبکہ کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ایڈیشنل سیلز ٹیکس اور 6 فیصد انکم ٹیکس بھی لاگو ہوتا ہے ، حکومت کو کمرشل درآمد کنندگان کو بھی لیبسا امپورٹ کرنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ وہ مقامی صنعت کو خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی بنا سکیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیبسا کی درآمد پر عائد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی فوری طور پر ختم کی جائے جس سے خام مال کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ سپلائی چین مستحکم اور سوپ، ڈٹرجنٹس ودیگر مصنوعات کی مقامی پیداوار بلا تعطل جاری رہ سکے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments