جوڈیشل کمیشن : اسلام آباد، پشاور، سندھ ہائیکورٹس میں 10 ایڈیشنل ججز کے تقرر، مستقلی کی سفارشات منظور

جوڈیشل کمیشن : اسلام آباد، پشاور، سندھ ہائیکورٹس میں 10 ایڈیشنل ججز کے تقرر، مستقلی کی سفارشات منظور

شاہ رخ ارجمند ، ایاز شوکت، عمیر مجید اسلام آباد ہائیکورٹ، محمد ہمایوں ، سریش کمار، ڈاکٹر شاہ نواز کو سندھ ہائیکورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنیکی منظوری جسٹس مس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ، جسٹس ثابت اللہ، جسٹس اورنگزیب کو پشاور ہائیکورٹ کے مستقل جج ، سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچوں کی مدت میں توسیع جسٹس فیاض الحسن کی مستقلی کی منظوری نہیں دی :چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ،لا اینڈ جسٹس کمیشن کی انٹرنیشنل کمرشل کورٹ کے قیام کیلئے آئینی ترمیم کی تجویز

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ سے متعلق اجلاس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری، مستقل کرنے ، مدتِ ملازمت میں توسیع اور آئینی بینچوں کی مدت بڑھانے کی اہم سفارشات منظور کر لیں۔ جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ میں ہونے والے اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ سے متعلق مختلف ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے حوالے سے کمیشن نے اکثریتی رائے سے جسٹس خالد حسین شاہانی کی بطور ایڈیشنل جج مدت ملازمت میں مزید چھ ماہ توسیع کی سفارش کی، جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کو مستقل جج بنانے کی منظوری نہیں دی گئی۔

کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچوں کی مدت میں بھی مزید تین ماہ کی توسیع کی منظوری دی۔ سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کے لیے کمیشن نے اکثریتی رائے سے محمد ہمایوں خان ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سریش کمار اور ڈاکٹر شاہ نواز میمن ایڈووکیٹ کی منظوری دی ۔ اعلامیے کے مطابق دو اسامیاں مطلوبہ اکثریت نہ ملنے کے باعث پُر نہ کی جا سکیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے کمیشن نے ایاز شوکت ایڈووکیٹ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند اور عمیر مجید ملک ایڈووکیٹ کو بطور ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی منظوری دی۔ پشاور ہائی کورٹ کے حوالے سے کمیشن نے اکثریتی رائے سے چار ایڈیشنل ججوں کو مستقل جج بنانے کی منظوری دی، ان میں جسٹس مس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔

کمیشن نے یہ سفارش متعلقہ ریکارڈ، کوائف، سابقہ معلومات اور دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد کی۔ دریں اثناء چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کی زیرِ صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن کے 49ویں اجلاس میں انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئین میں نیا آرٹیکل 212-اے شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے آئینی ترمیم کی تجویز وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان کے قیام کے لیے آئین میں نئے آرٹیکل 212-اے کا اضافہ تجویز کیا جائے ۔ یہ ایک آزاد وفاقی اعلیٰ عدالت ہوگی جو بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے فوری، مؤثر اور شفاف حل کے لیے قائم کی جائے گی۔ یہ عدالت ثالثی ایوارڈز کے مؤثر نفاذ، تجارتی قوانین میں یکسانیت اور پیشگوئی کی صلاحیت کے فروغ، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور پاکستان کو بین الاقوامی تجارت و سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانے میں معاون ہوگی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...