سعودی عرب کے بحری محاصرے کا اعلان : حوثیوں نے باب المندب کو بند کیا تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں 7 فیصد کمی ہوجائیگی، سفارتکاری جاری، ایران کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز موصول
ایرانی شہرو ں میں دھماکے ،1 شہید،متعدد زخمی، پاسداران انقلاب کا 2آئل ٹینکروں، اردن میں امریکی طیاروں، کویت میں العذیری کیمپ ،علی السالم ایئر بیس ، بحرین و شام میں اہداف کو نشانہ بنا نے کا دعویٰ ایرانی وزیر داخلہ کی محسن نقوی سے ملاقات، دوبارہ فعال ثالثی کی درخواست، سفارتی حل کیلئے تیار:مارکو روبیو ،ایران کو امریکی فوجی کی ہلاکت کی گئی گنا قیمت چکانا پڑے گی:ٹرمپ،مکمل جنگ میں مصروف :پزشکیان
ریاض (نیوز ایجنسیاں )یمن میں ایران حامی حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے خلاف "آنکھ کے بدلے آنکھ" کی پالیسی کے تحت فوری بحری محاصرے کا اعلان کر دیا ۔ حوثیوں کے مطابق یہ اقدام یمن پر گزشتہ کئی سالوں سے قائم سعودی محاصرے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے ۔ اگر باب المندب کی بحری گزر گاہ مکمل بند ہوتی ہے تو اس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں مزید 7 فیصد کمی آ سکتی ہے کیونکہ سعودی عرب کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے جاتا ہے ۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے کئی شہروں میں فوجی و بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے مسلسل نویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں۔شمالی صوبہ مشرقی آذربائیجان میں ایک فرد شہید متعدد زخمی ہوئے ۔
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں دو تیل کے ٹینکرز میں دھماکوں کا دعویٰ کیا ہے۔ اردن میں عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی اثاثوں بشمول فوجی طیاروں، کویت میں العذیری کیمپ اور علی السالم ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ۔ بحرین میں فضائی نیوی گیشن نظام اور شام میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ۔جبکہ امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی بندرگاہوں میں جہازوں کی آمد و رفت روکنے کی کوشش میں 7 تجارتی جہازوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور ایک جہاز کو ناکارہ بنا دیا، جس سے ایران کے خلاف اس کا بحری محاصرہ جاری ہے۔
ایرانی صدر نے کہا حقیقت یہ ہے کہ آج ایران ایک مکمل جنگ میں مصروف ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران اگر ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا تو اسے اس کی گئی گنا زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ ہدایات وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ، امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ڈین کین اور فوج کے ہر افسر تک پہنچا دی ہے ۔کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ سفارت کاری جاری ہے ۔
ایرانی حکام کو ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے ۔ ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی سے ملاقات کی، انہوں نے اپنے دورۂ اسلام آباد کے دوران پاکستان سے درخواست کی کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کو کم کرنے کے لیے اپنا ثالثی کا کردار دوبارہ فعال کرے ۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران عالمی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنائے رکھے گا حملے جاری رہیں گے تاہم امریکا سفارتی حل کے لیے تیار ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments