اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت معیشت کیلئے سنگین خطرہ، اوور سیزچیمبر

اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت معیشت کیلئے سنگین خطرہ، اوور سیزچیمبر

قومی خزانے کوسالانہ 751ارب کا نقصان، حکومت سرحدی نگرانی موثر بنائے کسٹمز نظام، قانون نافذ کرنیوالے اداروں، سرحدی نگرانی میں بہتری کی ضرورت

کراچی (کامرس رپورٹر)اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے ، جس کے باعث قومی خزانے کو ہر سال تقریباً 751 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ چیمبر نے حکومت پر زور دیا کہ غیر قانونی تجارت کے خاتمے ، سرحدی نگرانی مؤثر بنانے ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے فوری اور مربوط اقدامات کیے جائیں، او آئی سی سی آئی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی تجارت اب صرف جعلی اشیائے صرف تک محدود نہیں رہی، بلکہ تمباکو، پٹرولیم مصنوعات، ادویات، ٹائرز اور چائے سمیت متعدد اہم شعبے اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار سے شدید متاثر ہیں۔اس رجحان کے باعث ایک طرف حکومت کو اربوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے ، دوسری جانب قانونی صنعت، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری ماحول بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 کے عالمی غیر قانونی تجارت انڈیکس میں پاکستان 158ممالک میں 101 ویں نمبر پر موجود ہے جو اس امر کی نشاندہی ہے کہ ملک میں کسٹمز نظام، قانون نافذ کرنیوالے اداروں، سرحدی نگرانی اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے ، او آئی سی سی آئی کے مطابق سب سے زیادہ غیر قانونی تجارت تمباکو کی صنعت میں کی جا رہی ہے ، جہاں اسمگلنگ اور ٹیکس چوری سے فروخت مصنوعات قومی محصولات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...