فیڈریشن کا عنوان استعمال کرنے پرقانونی و ضابطہ جاتی اعتراضات

فیڈریشن کا عنوان استعمال کرنے پرقانونی و ضابطہ جاتی اعتراضات

ہوزری مینوفیکچررز کا فیڈریشن کو خط، ڈی جی ٹی او کے احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ

کراچی(رپورٹ:محمدحمزہ گیلانی) ملک کی تجارتی و صنعتی تنظیموں کے درمیان ایک اہم قانونی تنازع سامنے آگیا۔ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ٹریڈ آرگنائزیشن قوانین کے تحت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کی جانب سے فیڈریشن کا عنوان اور کردار استعمال کیے جانے پر قانونی و ضابطہ جاتی اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزارت تجارت کے ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 اور متعلقہ قوانین کے تحت ملکی سطح پر فیڈریشن کی حیثیت رکھنے والی تنظیم کے حوالے سے واضح قانونی فریم ورک موجود ہے جبکہ ملک میں ایف پی سی سی آئی پہلے ہی قومی سطح پر فیڈریشن کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ ہوزری مینوفیکچرز ایسوسی ایشن نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی تنظیموں کے قانونی اسٹیٹس اور ناموں کے استعمال سے متعلق قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔خط میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان نے 27 رجسٹرڈ ٹریڈ تنظیموں کو اپنے پلیٹ فارم کا حصہ بنا کر خود کو فیڈریشن کے طور پر پیش کیا جس پر ضابطہ جاتی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ خط کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز کی جانب سے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کو اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم، نام اورلیٹر ہیڈ سمیت دیگر ذرائع میں فیڈریشن کا لفظ استعمال کرنے سے روکنے کے حوالے سے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈی جی ٹی او نے متعلقہ قانونی و وفاقی ریگولیٹری فریم ورک کے تناظر میں معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہے ۔

ذرائع کے مطابق معاملے کی اہمیت کے پیش نظر ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق مراسلت اقوام متحدہ، عالمی ادارہ محنت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سمیت متعلقہ اداروں تک بھی پہنچائی گئی ہے ۔ دوسری جانب اس معاملے نے ملک کی کاروباری برادری میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے ۔ تاجر و صنعت کاروں کے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 کے تحت رجسٹرڈ تنظیموں کی قانونی حیثیت، دائرئہ کار اور نمائندگی کے اختیارات کس حد تک ہیں اور کسی تنظیم کو فیڈریشن کے طور پر پیش کرنے کے لیے کون سے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ قوانین، ڈی جی ٹی او کے احکامات اور تجارتی تنظیموں کے موجودہ ریگولیٹری ڈھانچے کی روشنی میں صورتحال کو واضح کیا جائے اور اگر کسی تنظیم کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اسکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...