مکہ دفاعی اتحاد : سعودی عرب میں سیکرٹریٹ ، پہلے سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہونگے

 مکہ دفاعی اتحاد : سعودی عرب میں سیکرٹریٹ ، پہلے سیکرٹری  جنرل پاکستان سے ہونگے

اجتماعی دفاع،مزاحمتی صلاحیت کو یقینی بنایا جائیگا، دفاعی، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی کیلئے کام کرینگے ، بحرانوں کے حل ،کشیدگی میں کمی کی حمایت کی جائیگی :مشترکہ اعلامیہ ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کا عمل شروع ،اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ، کسی مخصوص ریاست کیخلاف نہیں، روڈ میپ تیار کیا جارہا ،امید ہے مزید ممالک شامل ہونگے اسرائیلی وزیر اعظم دنیا کیلئے خطرہ ، مسلمانوں کا خون بہا کر لطف اندوز ہونیوالے کو روکنا چاہیے :ترک وزیر خارجہ،سیاسی ، دفاعی تعاون کو فروغ دینے کا اعادہ کیا،سعودی وزیر دفاع

 استنبول،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،وقائع نگار )مکہ معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں مکہ دفاعی اتحاد کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا،اتحاد کا سیکرٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جائے گا ،اس کے پہلے سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہوں گے ،ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی ، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان ، وزیر قومی دفاع یشار گیولر ، ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلچوق بائر اکتار اولو ، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ، وزیر دفاع خالد بن سلمان، چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی بھی شریک ہوئے ،اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علاقائی ذمہ داری کے احساس کے تحت، تینوں ممالک نے پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے مکہ معاہدے کے فریم ورک کے اندر مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے بحرانوں کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کی جائے گی،کشیدگی میں کمی اور تحمل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مکہ معاہدے کے تحت اپنے تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ان کی یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اجتماعی دفاع اور مزاحمتی صلاحیت کی ساکھ اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے ، منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے علاقائی کوششوں اور اشتراکی سلامتی میں معاونت فراہم کی جا سکے ، مشترکہ اعلامیے کے مطابق سعودی عرب میں ایک سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ایک سیکرٹری جنرل کریں گے تاکہ مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت ان کے کام میں معاونت فراہم کی جا سکے ۔ ابتدائی طور پر اس سیکرٹریٹ کی سربراہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل تین سال کی مدت کے لیے کریں گے ،مزید یہ کہا گیا ہے کہ مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے تینوں ممالک مضبوط دفاعی صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی اور پیداوار کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور اپنی مسلح افواج کے باہمی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے ،مکہ معاہدے کے ادارہ جاتی اور پرعزم نفاذ کے ذریعے تینوں ممالک علاقائی امن اور استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے ،اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اجلاس کامقصد علاقائی امن اور استحکام کا فروغ ہے ،انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ادارہ سازی کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس اجلاس میں کئے گئے فیصلے نتیجہ خیز ثابت ہوں گے ،ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے ، ہمارا اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں ہے ، مکہ معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں ادارہ سازی کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا،حاقان فیدان نے کہا کہ مزید ممالک کی معاہدے میں شمولیت کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر کام کیا جارہا ہے ،ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ تین ملکی معاہدے کو ’’ مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کہا جائے گا ،اجلاس کے ایجنڈے میں بڑھتی ہوئی علاقائی وعالمی کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ ذمہ داری کا تعین کرنا اور عالمی وعلاقائی سلامتی کے امور اور تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر غور شامل تھا۔ایجنڈے میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر غوراور دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کاجائزہ لینا بھی شامل تھا،دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششیں مزید مؤثربنانے کے اموربھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھیں۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی ڈیٹرنس کو مزید مضبوط بنانا ہے ۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو صرف ترکی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، ان سے سوال کیا گیا کہ اسرائیلی سرکاری بیانیے میں ترکی کو ایک سٹریٹجک خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، اسرائیل کے اس بیانیے اور اقدامات کو انقرہ کس طرح دیکھتا ہے ؟’جواب میں ترک وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو پوری دنیا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نیتن یاہو کو روکنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی پالیسیوں سے خطے ، اسرائیل، یہودی عوام اور دنیا کے دیگر حصوں کو مزید نقصان نہ پہنچے ،حاقان فیدان نے مزید کہا کہ جو قاتل فلسطینیوں اور مسلمانوں کا خون بہا کر لطف اندوز ہوتا ہے اسے ضرور روکا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحاد ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بین الاقوامی اصولوں پر قائم ہے ،ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں، انہو ں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہوں گے ، ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں، گزشتہ تین دہائیوں کے واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ خطے کے مسائل کا مؤثر حل اسی وقت ممکن ہے جب علاقائی ممالک خود ان کی ذمہ داری لیں، ایک دوسرے کی خود مختاری اور سلامتی کا احترام کریں اور باہمی اعتماد پر مبنی ڈھانچہ قائم کریں،ان کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد سے خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا اور غیر یقینی کی صورتحال میں کمی آئے گی جس سے سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع بھی بڑھیں گے ،اجلاس میں شرکت کرنے والے سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ہم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں کو فعال بنانے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مشترکہ سیاسی اور دفاعی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور امن و استحکام کو تقویت ملے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...