تجارتی خسارہ 10.8ارب ڈالر پہنچنے پریونائیٹڈ بزنس گروپ کوتشویش
صنعتی خام مال کی تیاری اور درآمدی متبادل صنعتوں کے فروغ کو ترجیح دی جائے ،زبیرطفیل برآمدی صنعتوں کو مسابقتی بنانے کیلئے بجلی، گیس ودیگر پیداواری لاگت کم کی جائے ، گفتگو
کراچی (بزنس ڈیسک)یونائٹیڈ بزنس گروپ (یو بی جی)کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے تجارتی خسارے کے 10.8 ارب ڈالر تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ستمبر 2026 میں برآمدات میں سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ ہوا ہے ، تاہم درآمدات میں تیزی سے اضافہ تجارتی توازن کیلئے اہم چیلنج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو برآمدات میں اضافے کے ساتھ درآمدی بل کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کیلئے فوری اور جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، کیونکہ مسلسل بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی زرمبادلہ اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے ۔زبیر طفیل نے حکومت پر زور دیا کہ برآمدی صنعتوں کو مسابقتی بنانے کے لیے بجلی، گیس اور دیگر پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے ، صنعتی خام مال اور ضروری مشینری کی درآمد میں سہولت دی جائے اور برآمد کنندگان کو ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے ساتھ آئی ٹی، انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل، چاول، لیدر، اسپورٹس گڈز، سرجیکل آلات اور دیگر ویلیو ایڈڈ شعبوں کی برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے ، برآمدات بڑھانے کا زور صرف ایکسپورٹرز پر ہی نہ ڈالا جائے بلکہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے تجارتی وفود اور مؤثر مارکیٹنگ کے ذریعے برآمدی بنیاد کو وسیع کیا جائے اور بیرون ممالک سفارتخانوں اور قونصلیٹ میں تعینات کمرشل قونصلرز کوایکسپورٹ بڑھانے کیلئے وہاں کی مارکیٹوں تک رسائی کیلئے ہدف دیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments