پیشہ ور بھکاریوں کو روکنے کا منصوبہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کا شکار گداگروں کی بھر مار

پیشہ ور بھکاریوں کو روکنے کا منصوبہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کا شکار گداگروں کی بھر مار

دہائیوں بعد تعمیر کیا جانے والا بیگرز ہوم گزشتہ دورِ حکومت میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا ،پکڑے گئے بھکاریوں کی کونسلنگ اور باعزت روزگار کے حوالے سے کوئی کام نہ ہو سکا

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)فیصل آباد بیگرز ہوم کی عدم موجودگی کے باعث پیشہ ور گداگروں کے نرغے میں آ چکا ہے ۔ پیشہ ور گداگروں کو بھیک مانگنے سے باز رکھنے اور انہیں ہنر مند بنانے کے لیے دہائیوں بعد تعمیر کیا جانے والا بیگرز ہوم گزشتہ دورِ حکومت میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نئے بیگرز ہوم کے قیام پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہ ہو سکی۔محکمہ سوشل ویلفیئر کو بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا ٹاسک دیا گیا، جس کے تحت مختلف اوقات میں آپریشنز بھی کیے گئے ۔ اسی تناظر میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے سال 2014 میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت بیگرز ہوم کا منصوبہ شامل کیا،

سالہا سال کی جدوجہد کے بعد جب ملت ٹاؤن میں بیگرز ہوم کی عمارت مکمل ہوئی تو اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا، جو اس سے قبل کینال روڈ پر کرائے کی عمارت میں تھا۔ اس کے بعد پیشہ ور بھکاریوں کی کونسلنگ اور انہیں باعزت روزگار سے جوڑنے کا منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا اور معاملہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی کا شکار ہو گیا۔شہریوں کا کہنا ہے سڑکوں، چوراہوں، گلی محلوں اور ٹریفک سگنلز پر پیشہ ور بھکاری ٹولیوں کی صورت میں سرگرم ہیں جو بھیک کے نام پر پیسے بٹور رہے ہیں۔ایسے پیشہ ور بھکاری مستحق افراد کا حق بھی مار لیتے ہیں، ان کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے ۔سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں پر قابو پانے کیلئے کارروائی کی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں