دل کی ادویات خریداری میں شفاقیت پر سوالات

دل کی ادویات خریداری میں شفاقیت پر سوالات

ادویات اور سرجری کے دیگر سامان کی خریداری کے فریم ورک کنٹریکٹ میں ٹائپوگرافیکل غلطی سامنے آ گئی ،4ماہ تک محکمے بے خبر رہے ، مریضوں ، عوام کو تشویش

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں) ایف آئی سی سمیت پنجاب کے دیگر کارڈیالوجی ہسپتالوں کے لیے کروڑوں روپے کی ادویات اور سرجری کے دیگر سامان کی خریداری کے فریم ورک کنٹریکٹ میں سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی غفلت ایک ٹائپوگرافیکل غلطی کی صورت میں سامنے آ گئی۔امراض قلب کے لیے خریدی جانے والی اہم ادویات کے کنٹریکٹ میں محکمہ صحت کے ذمہ داران نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس کے تحت ایک کلیرکل مسٹیک کو 4 ماہ تک بے خبری کی حالت میں نظرانداز کیا، تاہم بعد میں میڈیسن کمپنیوں کے پراڈکٹ سے متعلقہ کنٹریکٹ میں یہ دفتری غلطی درست کر دی گئی۔ اس غفلت کا اعتراف ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ پریکیورمنٹ محمد انور بریار نے جاری کردہ مراسلے میں کیا۔

مراسلے کے مطابق فیصل آباد سمیت صوبہ بھر کے کارڈیالوجی ہسپتالوں میں 2 مختلف میڈیسن کمپنیوں کے ساتھ 16 ستمبر 2025 کو 3 کروڑ 79 لاکھ 10 ہزار روپے مالیت کے امراض قلب کی اہم ادویات کے 2 ہزار یونٹس کے خریداری کا فریم ورک کنٹریکٹ کیا گیا تھا۔ اس کنٹریکٹ میں ایک دفتری غلطی 4 ماہ تک بے خبری کی حالت میں رہی، جس کے بعد اس معاہدے کو تحریری طور پر درست کرتے ہوئے ہسپتالوں کو دوبارہ اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ذرائع کے مطابق اس غلطی اور چار ماہ تک کی غفلت نے نہ صرف کنٹریکٹ کی شفافیت اور میڈیسن کمپنیوں کی اہلیت پر سوالات کھڑے کیے بلکہ امراض قلب کے مریضوں اور عوام میں بھی تشویش پیدا کی ہے ۔ اس واقعے سے محکمہ صحت پنجاب کی سنجیدگی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں