واسا فیصل آباد پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں ناکام شہری نجی فلٹریشن پلانٹس پر مجبور
صرف 60 سے 65 فیصد آبادی کو ہی واسا کے پانی کی سپلائی ہو رہی ، بوسیدہ لائنوں کے باعث سیوریج کا پانی بھی مکس ،شدید تعفن اور صحت کے مسائل ،شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )قیام کے 48 سال بعد بھی واسا شہر کی مکمل آبادی کو پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔ صنعتی شہر کے زمینی پانی کو پینے کے قابل نہ رہنے اور سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بندش کے باعث شہری نجی فلٹریشن پلانٹس یا نہر کنارے کئے گئے بور سے پانی خرید کر پینے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے ۔واسا کا قیام 1978 میں ہوااور فرانس کے فرنچ واٹر پروجیکٹ اور جاپان کی جائیکا پروجیکٹس کی شکل میں غیر ملکی تعاون حاصل ہونے کے باوجود شہر کی 100 فیصد آبادی تک پینے کا صاف پانی فراہم نہیں ہو سکا۔ صرف 60 سے 65 فیصد آبادی کو ہی واسا کے پانی کی سپلائی مل رہی ہے ،جہاں پانی پہنچتا ہے وہاں پر بھی بوسیدہ لائنوں کے باعث سیوریج مکس ہو جاتا ہے جس سے شدید تعفن اور صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
شہری نہر کنارے کیے گئے بور یا نجی فلٹریشن پلانٹس سے پانی خرید کر پیتے ہیں ضلعی انتظامیہ نے 47 سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے تھے اور 50 سے زائد پلانٹس مخیر حضرات اور نجی فلاحی اداروں کی جانب سے لگائے گئے تھے ، مگر بیشتر پلانٹس دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔ پی سی آر، ڈبلیو آر اور دیگر نجی اداروں نے بھی کئی بار فیصل آباد کے زمینی پانی کو مضر صحت قرار دیا ہے ۔ صنعتی فضلے ،ویسٹ واٹر نے زمینی پانی کو مزید خراب کر دیا ۔ شہریوں کا کہنا ہے واسا پانی کی کوالٹی میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے ان کا اعتماد ختم ہو گیا ۔