گٹ والا وائلڈ لائف بریڈنگ سنٹر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے مگر مچھوں کی بریڈنگ میں ناکام

گٹ والا وائلڈ لائف بریڈنگ سنٹر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے مگر مچھوں کی بریڈنگ میں ناکام

سنٹر میں16 مگر مچھ تھے ،3 کو لاہور چڑیا گھر منتقل کیا گیا ،جانوروں نے کئی بار گھونسلے بنائے ،انڈے دئیے ، مگر مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے بچے پیدا نہ ہو سکے ،سنٹر سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ بن گیا

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر)محکمہ تحفظ جنگلی حیات کا گٹ والا وائلڈ لائف بریڈنگ سنٹر قیام کے 42 سال بعد بھی مگرمچھوں کی کامیاب بریڈنگ نہیں کر سکا۔ متعدد بار انڈے تو آئے ، مناسب ماحول فراہم نہ کرنے کی وجہ سے بچے نہ نکل سکے ۔کراچی زولوجیکل گارڈن کی ریسرچ کے مطابق پاکستان میں مگرمچھوں کے قدرتی مسکن ختم ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہو رہی ہے اور پاکستان میں صرف 93 مگرمچھ دیکھے گئے ہیں۔گٹ والا سنٹر میں مارش کروکوڈائل کہلائے جانے والے 6 مگرمچھ رکھے گئے ، بعد ازاں مزید 10 مگرمچھ لائے گئے اور تعداد 16 ہو گئی۔ ان میں سے تین مگرمچھ لاہور چڑیا گھر منتقل کیے گئے ۔

2009 میں 6 مگرمچھ ہلاک ہو گئے اور اس کے بعد اب تک مزید دو ہلاک ہو چکے ہیں۔دو بار مزید مگرمچھ لائے گئے اور متعدد نر و مادہ کی تبدیلی کے باوجود مادہ مگرمچھوں نے کئی بار گھونسلے بنائے اور انڈے دئیے ، مگر مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے بچے پیدا نہ ہو سکے ۔ قیام سے اب تک ایک بار بھی مگرمچھوں کی کامیاب بریڈنگ نہیں ہوئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مگرمچھوں کی مناسب دیکھ بھال کر کے انکی تعداد میں اضافہ کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں ۔ سنٹر میں ویٹرنری ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ماہانہ 5 لاکھ روپے سے زائد بجٹ استعمال ہو رہا ہے ،ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر و اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی تنخواہیں شامل کرنے سے یہ سنٹر سرکاری خزانے پر بھاری بوجھ بن گیا ہے ۔ڈپٹی ڈائریکٹر عظیم ظفر نے موقف نہیں دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں