گل پلازہ کے اطراف کاروبار بند،تاجروں کا احتجاج
مالی نقصان پہنچ رہا ہے ، موجودہ آرڈرز بھی پورے نہیں ہو پا رہے ،مظاہرین مارکیٹس جلد کھولنے کے لیے لائحہ عمل بنایاجائے ،ڈی سی آفس میں شکایت
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)گل پلازہ کے اطراف کاروبار بند کرائے جانے کیخلاف دیگر مارکیٹس کے دکانداروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کاروبار بند ہونے سے انہیں مالی نقصان پہنچ رہا ہے ۔گل پلازہ کے ساتھ واقع گل تجارہ اور رمپا پلازہ سمیت اطراف کی اہم مارکیٹس میں تجارتی سرگرمیاں تاحال بند ہیں۔گل پلازہ کے اطراف کاروبار بند کرائے جانے کیخلاف دیگر مارکیٹس کے دکانداروں نے احتجاج کیا۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے اطراف اہم مارکیٹس کو بھی بند کروادیا گیا جبکہ اطراف اہم سڑکوں کو بھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے ۔مظاہرین نے کہا کہ 12 روز سے کاروبار بند ہونے سے انہیں مالی نقصان پہنچ رہا ہے اور موجودہ آرڈرز بھی پورے نہیں ہو پا رہے ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے نے بلڈنگز کو کلیئر قرار دیا ہے ، لیکن پھر بھی کاروبار کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دکانداروں نے ڈی سی ساوتھ آفس میں شکایات بھی درج کروائی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹس جلد کھولنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔دکانداروں نے مزید کہا کہ انہیں دکانوں کا کرایہ اور اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنی ہیں، جبکہ 12 دن سے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے مالی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔یاد رہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد مارٹن روڈ اوراطراف میں گزشتہ 11 روز سے گیس کی سپلائی معطل ہونے سے علاقہ مکینوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق گیس کی بندش سے 10 ہزار گھر متاثرہو رہے ہیں جہاں گیس نہیں آ رہی۔