ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں کماد کا سالانہ ریسرچ پروگرام
چینی کی پیداوار اور برآمدات بڑھنے سے معیشت کو استحکام حاصل ہوگا: ماہرین
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں کماد کے سالانہ ریسرچ پروگرام (2026-27) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین نے زور دیا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنانے سے کماد کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے ، جبکہ چینی کی پیداوار اور برآمدات بڑھنے سے ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔پروگرام کے دوران چیف سائنٹسٹ شوگرکین ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر کاشف منیر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کماد کے بہتر بیج اور تحقیق کے لیے برازیل، امریکہ، آسٹریلیا، ایران، سری لنکا اور فلپائن سے تکنیکی معاونت حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 30 لاکھ ایکڑ رقبے پر کماد کاشت کیا جا رہا ہے ، جبکہ پنجاب میں جدید اقسام کے ذریعے فی ایکڑ 2000 من تک ریکارڈ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے ۔مزید بتایا گیا کہ شعبہ کماد کی کاوشوں سے اب تک 28 اقسام متعارف کروائی جا چکی ہیں، جن میں سی پی ایف-248، سی پی ایف-249، سی پی ایف-252، سی پی ایف-253، سی پی 77-400، ایس پی ایف-234 اور ایس ایچ ایف-242 شامل ہیں، اور یہ اقسام ملک کے 85 فیصد سے زائد رقبے پر کاشت ہو رہی ہیں۔