میٹرک کے بعض امتحانی مراکز میں بد عنوانیوں کا انکشاف ، کنٹرولر امتحانات کو شوکا زنوٹس
وزیرِ اعلیٰ کی ٹاسک فورس برائے امتحانی اصلاحات نے ایکشن لیا ،بعض امتحانی مراکز میں من پسند سٹاف کو سنٹر سپرنٹنڈنٹس تعینات کیا گیا،کنٹرولر امتحانات کو 24گھنٹے میں جواب جمع کروانے کی ہدایت
فیصل آباد (نیوز رپورٹر)امتحانی مراکز میں بدعنوانیوں کے انکشافات سامنے آنے پر وزیرِ اعلیٰ کی ٹاسک فورس برائے امتحانی اصلاحات نے ایکشن لیتے ہوئے کنٹرولر امتحانات کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ چیئرمین چیف منسٹر ٹاسک فورس فار ایگزامینیشن ریفارمز کی جانب سے مراسلہ بھی جاری کیا گیا ۔بعض امتحانی مراکز میں من پسند سٹاف کو سنٹر سپرنٹنڈنٹس تعینات کیا گیا، جس کا مقصد غیر قانونی فوائد حاصل کرنا تھا۔ ٹاسک فورس نے اس عمل کو اصلاحاتی پروگرام کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت کی۔چیئرمین ٹاسک فورس نے وضاحت کی متعدد مراکز پر سابقہ سپرنٹنڈنٹس کو دوبارہ تعینات کیا گیا، جبکہ پرانے عملے کی دوبارہ تعیناتی بھی قواعد کے خلاف ہے۔
محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کو مختلف امتحانی مراکز میں من پسند سٹاف کی تعیناتی، مبینہ کرپشن اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات موصول ہوئیں، جس پر نوٹس لیا گیا۔صوبائی وزیر تعلیم اپنے دورۂ فیصل آباد کے دوران امتحانی مراکز کو بوٹی مافیا سے پاک رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں،حالیہ شکایات پر وزیرِ اعلیٰ کی ٹیم نے فوری کارروائی عمل میں لائی۔ شوکاز نوٹس میں کنٹرولر امتحانات کو ہدایت کی گئی وہ 24 گھنٹوں کے اندر جواب جمع کروائیں۔روزنامہ دنیا نیوز نے دو روز قبل امتحانی مراکز میں مبینہ طور پر رشوت کے عوض سپرنٹنڈنٹس کی تعیناتی اور واٹس ایپ سمیت دیگر غیر قانونی ذرائع سے پیپر آؤٹ اور طلبہ کو مدد فراہم کرنے کی نشاندہی بھی کی تھی۔