نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کی سرمایہ کاری پر آڈٹ اعتراضات

 نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کی سرمایہ کاری پر آڈٹ اعتراضات

2019-20 میں 8کروڑ ، 2020-21میں 6کروڑ ، 2021-22میں 21کروڑ 39لاکھ کی سرمایہ کاری کی گئی اورمسابقتی بولی کے طریقہ کار پر عمل نہ کیا گیا

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں) نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے 21 کروڑ 39 لاکھ روپے کے سرپلس فنڈز کی سرمایہ کاری پر سرکاری سطح پر اعتراضات سامنے آ گئے ہیں۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے اعلیٰ حکام کو ارسال کی گئی آڈٹ رپورٹ کے مطابق نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے مالی سال 2019-20 سے 2021-22 تک کے آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف بینکوں میں شارٹ ٹرم انویسٹمنٹ کی مد میں سرمایہ کاری کی۔ مالی سال 2019-20 میں 8 کروڑ روپے ، 2020-21 میں 6 کروڑ روپے جبکہ 2021-22 میں 21 کروڑ 39 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی ہدایات کے تحت اضافی یا بچت شدہ فنڈز کی سرمایہ کاری کے لیے متعدد شرائط پر عملدرآمد ضروری تھا، جن میں اے ریٹنگ بینکوں میں سرمایہ کاری، مسابقتی بولی کا عمل، ایک بینک میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم نہ رکھنا، انویسٹمنٹ کمیٹی کا قیام اور پیشہ ورانہ مالیاتی انتظام شامل تھا، تاہم انتظامیہ نے ان شرائط کی خلاف ورزی کی۔آڈٹ نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی میں منظور شدہ ورکنگ بیلنس کی حدود موجود نہیں تھیں، سرمایہ کاری کے لیے مسابقتی بولی کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا اور انویسٹمنٹ کمیٹی بھی مقررہ وقت پر قائم نہیں کی گئی، جس سے مالی شفافیت، اختیار اور رسک مینجمنٹ کے معاملات متاثر ہوئے۔

وزارت خزانہ کی ہدایات کے برخلاف کی گئی سرمایہ کاری غیر قانونی اور غیر مجاز تھی۔ بعد ازاں یہ معاملہ 5 دسمبر 2023 کو انتظامیہ کے سامنے اٹھایا گیا، جس پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈویلپمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کی ہدایت پر بورڈ آف گورنرز کے 42ویں اجلاس، منعقدہ 28 جون 2022، میں انویسٹمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی۔تاہم آڈٹ حکام نے یہ جواب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انویسٹمنٹ کمیٹی درحقیقت 26 جولائی 2022 کو قائم کی گئی تھی، جبکہ سرمایہ کاری اس سے قبل کی جا چکی تھی، لہٰذا یہ اقدام وزارت خزانہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔آڈٹ حکام کے مطابق رپورٹ کی تکمیل تک پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کی جانب سے ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جا سکا۔ آڈٹ نے سفارش کی ہے کہ آئندہ سرکاری سرمایہ کاری سے متعلق تمام قواعد و ضوابط اور ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔ذرائع کے مطابق 2025 میں مکمل ہونے والی حتمی انکوائری رپورٹ کے باوجود تاحال اس حوالے سے کسی عملی کارروائی یا نتائج کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں