تحصیل بھرمیں سانگ کی بیماری سے مویشیوں کی ہلاکتیں
لاکھوں روپے کا نقصان، فارمرز سراپا احتجاج،حکام سے ویکسین فراہمی کا مطالبہ
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا)تحصیل بھرمیں \"سانگ\" کی بیماری سے مویشیوں کی ہلاکتیں، لاکھوں روپے کا نقصان، فارمرز سراپا احتجاج بن گئے ۔تفصیل کے مطابق تحصیل اٹھارہ ہزاری اور گردونواح کے علاقوں میں مویشیوں میں پھیلنے والی خطرناک بیماری \"سانگ\" نے تباہی مچا دی ہے ، جس سے قیمتی جانور تیزی سے ہلاک ہو رہے ہیں اور مقامی فارمرز کو لاکھوں کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ موضع چوکن جانپور میں مقامی فارمر تنویر جٹ سمیت متعدد افراد کے 50 سے 60 لاکھ مالیت کے جانور بیماری کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
متاثرین کے مطابق ہر گھنٹے بعد ایک جانور کے مرنے کی اطلاعات ملی رہی ہیں۔متاثرہ فارمرز کا کہنا ہے کہ تحصیل ویٹرنری ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹھارہ ہزاری کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔ نہ تو ویٹرنری ڈاکٹرز اور ویکسی نیٹرز فیلڈ میں نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی ہسپتال میں بیماری سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہے ۔علاقہ مکینوں اور مویشی پال افراد نے وزیراعلیٰ، سیکرٹری لائیو سٹاک، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جھنگ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر طبی ٹیمیں بھجوائی جائیں، ویکسین کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے اور غفلت کے مرتکب ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوروں کی ہلاکتوں اور فارمرز کے معاشی نقصان کو روکا جا سکے۔