پٹرول سستا ہونے کے باوجود مہنگائی کم نہ ہوسکی
اشیائے ضرویہ کی قیمتوں میں الٹا اضافہ ہوگیا ،سبزیاںریٹ لسٹ سے کئی گنا زائد قیمت پر فروخت ،ضلعی انتظامیہ،پیرافورس اورمجسٹریٹس عوام کو ریلیف نہ دلاسکے
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مصنوعی مہنگائی اور گرانفروشی کم نہ ہوسکی۔ ضلعی انتظامیہ،پیرافورس اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس عوامی ریلیف کیلئے حقیقی اقدامات نہ کرسکے،انتظامی مشینری مہنگائی کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے تمام تر توجہ تجاوزات پر مرکوز کیے ہوئے ہے،پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کو 10 روز مکمل ہوچکے ہیں لیکن اسکے باوجود اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ چکی ہیں۔
سرکاری طور پر جاری کی جانے والی ریٹ لسٹ پر جب 19 جون سے پہلے پٹرول 373 روپے فی لیٹر تھا تب 18 جون کو جاری ہونے والی ریٹ لسٹ کے مطابق ادرک 295 روپے تھا جبکہ 27 جون کی ریٹ لسٹ پر ادرک 305 روپے فی کلو ہے 18 جون کو ٹماٹر کی قیمت ریٹ لسٹ کے مطابق 90 روپے تھی اور پٹرول میں کمی کے بعد 27 جون کی ریٹ لسٹ پر 60 روپے اضافے کے بعد ٹماٹر کی سرکاری قیمت 150 روپے فی کلو دی گئی جب پٹرول 373 روپے فی لیٹر تھا اس وقت شملہ مرچ کی سرکاری قیمت 70 روپے فی کلو تھی اور پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر کی کمی کے بعد شملہ مرچ کی سرکاری قیمت میں 130 روپے فی کلو کا غیر معمولی اضافہ کردیا گیا۔
جس کے بعد 27 جون کی ریٹ لسٹ پر شملہ مرچ کی قیمت 200 روپے فی کلو آئی فیصل آباد میں سرکاری نرخوں کی الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد اشیائے ضرویہ کی قیمتوں میں الٹا اضافہ ہوگیا جبکہ یہ ہر جگہ ریٹ لسٹ سے کئی گنا زائد قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیرا فورس کے قیام کے باوجود مہنگائی کم نہیں ہوئی، پیرافورس اور انتظامی افسر صرف تجاوزات کیخلاف فرضی کارروائیاں کررہے ہیں۔شہریوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی مہنگائی اور گرانفروشی کو فوری روکا جائے۔