تحقیقی ثقافت اور جدید تدریسی مہارتوں کا فروغ اہم : ماہرین

تحقیقی ثقافت اور جدید تدریسی مہارتوں کا فروغ اہم : ماہرین

3 روزہ سینئر فیکلٹی ٹریننگ ورکشاپ کا افتتاحی اجلا س ، تدریسی معیار پر گفتگو

فیصل آباد (سٹی رپورٹر) ماہرین نے کہا ہے کہ جامعات میں تحقیقی ثقافت کو فروغ دے کر اور اساتذہ کو جدید تدریسی و تحقیقی مہارتوں سے آراستہ کرکے طلبہ کی خداداد صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے ، جس سے ان کا روشن مستقبل یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈائریکٹوریٹ آف اکیڈمکس اور ٹیچنگ ریسورس سینٹر کے اشتراک سے منعقدہ تین روزہ سینئر فیکلٹی ٹریننگ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد جدت طرازی، بین الشعبہ جاتی تعاون اور بین الاقوامی روابط کے فروغ کے ذریعے ایک ممتاز زرعی جامعہ کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ایسے علمی رہنماؤں کی تیاری کے لیے ناگزیر ہے جو اعلیٰ تعلیم اور زرعی شعبے کو درپیش نئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں۔ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر راؤ صابر ستار نے کہا کہ سینئر فیکلٹی اراکین نوجوان اساتذہ کی رہنمائی، مسابقتی تحقیقی فنڈز کے حصول اور قومی و بین الاقوامی زرعی مسائل کے حل کے لیے معیاری تحقیق کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ورکشاپ سے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ، ڈین ڈاکٹر راؤ زاہد عباس، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈاکٹر بابک محمود، ڈاکٹر سرفراز، ڈاکٹر عمران پاشا اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے تدریسی معیار، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...