کھلے نالے شہریوں کیلئے موت کا جال، 8 سالہ بچے کی ہلاکت کے باوجود حفاظتی اقدامات نہ ہوئے
فیصل آباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں کئی کلومیٹر طویل نالے بغیر حفاظتی جنگلوں یا ڈھکنوں کے موجود ،بارشوں کے موسم میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ،اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)ضلعی انتظامیہ اور واسا کی مبینہ غفلت کے باعث شہر بھر میں موجود کھلے نالے شہریوں، خصوصاً بچوں، کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ غلام محمد آباد میں تین روز قبل کھلے نالے میں گر کر 8 سالہ سہیل جاں بحق ہوگیا، تاہم اس افسوسناک واقعے کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے ۔شہریوں کا کہنا ہے یہ پہلا واقعہ نہیں، مذکورہ نالہ ماضی میں بھی کئی قیمتی انسانی جانیں نگل چکا ہے ، جبکہ فیصل آباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں کئی کلومیٹر طویل نالے بغیر حفاظتی جنگلوں یا ڈھکنوں کے موجود ہیں۔ متعدد مقامات پر یہ نالے آبادیوں، گلیوں، اسکولوں اور بازاروں کے قریب سے گزرتے ہیں، جس کے باعث معمولی سی غفلت بھی جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتی ہے ۔شہریوں کے مطابق بارشوں کے موسم میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے کیونکہ پانی کے تیز بہاؤ سے نالوں کی گہرائی اور خطرناک مقامات کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ واسا نکاسی آب کے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے ، مگر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بنیادی حفاظتی اقدامات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر فیصل آباد، ڈپٹی کمشنر اور منیجنگ ڈائریکٹر واسا سے مطالبہ کیا ہے کہ غلام محمد آباد کے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے ، شہر بھر کے کھلے نالوں کا ہنگامی سروے کرایا جائے ، رہائشی آبادیوں سے گزرنے والے تمام خطرناک نالوں کو ڈھانپا جائے یا ان پر حفاظتی جنگلے نصب کیے جائیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments