مون سون میں عمارتوں کی کھدائی شہریوں کیلئے خطرہ
شہر کے مختلف رہائشی اور کمرشل علاقوں میں متعدد پلازوں اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر ضابطوں کے برعکس جاری ، اداروں کی مبینہ غفلت سے حادثات کے خدشات
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)مون سون کی مسلسل بارشوں کے دوران فیصل آباد میں زیر تعمیر عمارتوں کے لیے کی جانے والی گہری کھدائی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے ۔ شہر کے مختلف رہائشی اور کمرشل علاقوں میں متعدد پلازوں اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر ضابطوں کے برعکس جاری ہے ، جبکہ متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت سے ممکنہ حادثات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔مون سون سیزن میں عموماً نئی عمارتوں کی گہری کھدائی محدود یا معطل رکھنے کی ہدایات دی جاتی ہیں تاکہ بارشوں کے باعث زمین بیٹھنے ، اطراف کی عمارتوں کی بنیادیں کمزور ہونے اور کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے ۔ تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں ان ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے بیسمنٹس اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے لیے کئی کئی فٹ گہری کھدائی کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد مقامات پر بیسمنٹ کی کھدائی مکمل کرنے کے بعد تعمیراتی کام ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے ، جہاں حالیہ بارشوں کے باعث پانی جمع ہو چکا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں اردگرد کی زمین نرم ہونے سے قریبی عمارتوں کی بنیادیں متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے دیواروں میں دراڑیں پڑنے اور عمارتوں کے جزوی یا مکمل طور پر منہدم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر تعمیراتی مقامات پر نہ حفاظتی باڑ لگائی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی وارننگ یا دیگر حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔ ان کے مطابق بعض نجی بلڈرز اور ٹھیکیدار انجینئرنگ کے بنیادی حفاظتی اصولوں کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں، جس سے راہگیروں، قریبی مکینوں اور اردگرد موجود عمارتوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ دنوں میں مزید شدید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر زیر تعمیر مقامات سے بارش کے پانی کی بروقت نکاسی، سائیڈ سپورٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات یقینی نہ بنائے گئے تو کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور متعلقہ ادارے صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کر رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی تعمیراتی غفلت اور بارشوں کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، مگر متعلقہ ادارے اکثر کسی سانحے کے بعد ہی متحرک ہوتے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مون سون سیزن کے دوران خطرناک تعمیراتی کھدائیوں کا فوری جائزہ لے کر غیر محفوظ مقامات پر کام رکوایا جائے اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments