حادثات میں اموات کے باوجود مکوآنہ میں آتشبازی کا غیر قانونی کاروبار نہ رک سکا
دو روز قبل بھی دھماکے میں 12 سالہ لڑکا جاں بحق ہوا ،متعلقہ اداروں نے کارروائی کرتے مبینہ فیکٹری کو سیل،سامان ضبط کرلیا، نشاندہی کے باوجود آتشبازی کے مراکز فعال ہو رہے :شہری
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)مکوآنہ میں آتشبازی کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف اداروں کی کارروائیاں ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئیں۔ ماضی میں ہونے والے متعدد دھماکوں اور روزنامہ دنیا کی مسلسل نشاندہی کے باوجود آتشبازی کی غیر قانونی تیاری کا سلسلہ نہ رک سکا۔ گزشتہ دنوں تھانہ کھرڑیانوالہ کی چوکی مکوآنہ کے علاقے میں آتشبازی کا سامان تیار کیا جا رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکا ہوگیا، جس کے نتیجے میں 12 سالہ عزادار حسین موقع پر جاں بحق جبکہ اس کا والد فخر حسین شدید جھلس کر زخمی ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ ضیاء اللہ گوندل کی ہدایت پر متعلقہ اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ فیکٹری کو سیل اور سامان ضبط کرلیا، جبکہ پولیس اور دیگر اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔مکوآنہ میں آتشبازی کی تیاری کے دوران حادثے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی متعدد دھماکے ہوچکے ہیں۔روزنامہ دنیا نے 21 مارچ کو بھی تھانہ کھرڑیانوالہ اور چوکی مکوآنہ پولیس کی جانب سے آتشبازوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کی نشاندہی کی تھی، تاہم مبینہ طور پر مؤثر نگرانی اور کارروائی نہ ہونے کے باعث آتشبازی کی تیاری کا سلسلہ جاری رہا ،شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے جان لیوا واقعات اور مسلسل نشاندہی کے باوجود اگر آتشبازی کے مراکز دوبارہ فعال ہو رہے ہیں تو نگرانی اور عملدرآمد کا نظام کہاں ہے ۔ شہریوں نے غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments