ایمرسن یونیورسٹی: نیا تعلیمی بحران، بی ایس داخلے متاثر، طلبہ کا مستقبل دائو پر
متعدد شعبوں میں داخلے انتہائی کم، وائس چانسلر کی پالیسیوں اور مبینہ بدانتظامی پر سوالات اٹھ گئے ، متاثرہ طلبہ، والدین اور اساتذہ کا گورنر پنجاب و ایچ ای سی سے فوری تحقیقات کا مطالبہ
ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں متعدد شعبوں کے بی ایس داخلے متاثر، طلبہ کا مستقبل داؤ پروائس چانسلر کی پالیسیوں اور مبینہ انتظامی بدانتظامی پر سوالات، متاثرہ طلبہ، والدین اور اساتذہ کا گورنر پنجاب و ایچ ای سی سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ تفصیل کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی اور تعلیمی معاملات کے حوالے سے ایک نیا بحران پیدا ہوگیا ہے ، جہاں متعدد اہم شعبہ جات میں بی ایس پروگرامز کے داخلے نہ ہونے کے باعث طلبہ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق شعبہ بین الاقوامی تعلقات، اردو، کیمسٹری، زولوجی، شماریات، ریاضی، اسلامیات، ایجوکیشن، سوشیالوجی اور معاشیات سمیت کئی بنیادی سائنسز اور سوشل سائنسز کے شعبہ جات میں نئی انرولمنٹ انتہائی کم رہی یا داخلے نہیں ہوسکے ، جس کے باعث بعض شعبہ جات میں کلاسز شروع نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن چند طلبہ نے ان شعبہ جات میں داخلہ حاصل کیا تھا، ان کی کلاسز نہ بننے کے باعث تعلیمی مستقبل بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔دوسری جامعات میں داخلوں کی مقررہ تاریخیں گزر جانے کے باعث متاثرہ طلبہ کے لیے متبادل اداروں میں داخلہ لینا بھی مشکل ہوگیا جس پر طلبہ اور والدین میں شدید پریشان ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری حل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔
بعض اساتذہ نے الزام عائد کیا ہے کہ داخلوں کے معاملے میں مؤثر حکمت عملی اختیار نہ کیے جانے ، شعبہ جات کی بروقت تشہیر اور طلبہ کو راغب کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث موجودہ صورتحال پیدا ہوئی، براہ راست نقصان طلبہ اور یونیورسٹی کے مالی و تعلیمی معاملات کو ہوگا۔ اساتذہ نے وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالد قریشی کی انتظامی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام کیا ہے کہ ادارے میں میرٹ کے بجائے پسند و ناپسند کو فروغ دیا جا رہا ہے ، اختلاف رائے رکھنے والے اساتذہ کو مبینہ طور پر دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے ، قریبی افراد کو اضافی انتظامی ذمہ داریوں و دیگر مراعات سے نوازا جا رہا ہے ،
ہراسانی، اختیارات سے تجاوز اور انتظامی و اخلاقی ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم ان معاملات پر تاحال کسی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجے یا باضابطہ کارروائی کی اطلاعات سامنے نہیں آسکیں۔صورتحال کا تقاضا ہے مبینہ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے ۔ متاثرہ طلبہ، والدین اور اساتذہ نے گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں کم انرولمنٹ، متاثرہ شعبہ جات، انتظامی پالیسیوں، اضافی عہدوں اور مبینہ اختیارات کے غلط استعمال سمیت تمام معاملات کا غیر جانبدارانہ اور شفاف آڈٹ و تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکے اور طلبہ کا تعلیمی مستقبل مزید متاثر ہونے سے بچایا جاسکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments